خواجہ نظام الدین اولیاء پیر تھے اور امیر خسرو رحمتہ اللہ علیہ ان کے مرید تھے۔ان دونوں میں اتنی محبت تھی کہ خواجہ نظام الدین اولیاء یوں فرماتے تھے کہ شرع شریف کی اجازت ہوتی تو میں یہ وصیت کر جاتا کہ مجھے اور امیر خسرو کو ایک ہی قبر میں دفن کیا جائے۔ دوسری طرف امیر خسرو کا یہ حال تھا کہ ایک دفعہ خواجہ نظام الدین اولیاء کی خدمت میں ایک سائل آیا‘
اس نے سوال کیا اس وقت حضرت کے پاس کچھ نہ تھا‘ لہٰذا حضرت نے اپنے جوتے اسے دے دیئے اور کہا یہی جوتے ہی لے جاؤ‘ وہ شخص حضرت کے جوتے لے کر راستے سے جا رہا تھا امیر خسرو اسی راستے سے خواجہ نظام الدین اولیاء کے پاس آ رہے تھے وہ جوتے اس سائل کے پاس دیکھ کر پہچان گئے کہ آج اس سائل کو حضرت کے دربار سے یہ نیاز ملی ہے چنانچہ کہنے لگے بھائی کیا تم میرے ساتھ یہ سودا کرنے کیلئے تیار ہو کہ یہ جوتے مجھے دے دو اور میں کچھ پیسے تجھے دیتا ہوں۔ وہ سمجھ گیا چنانچہ کہنے لگا کہ نہیں بلکہ میں اس کے بدلے آپ سے اتنی زیادہ قیمت لوں گا امیر خسرو نے اس کی من مرضی کی قیمت اس کو دے دی اور اپنے شیخ کے جوتے لے کر سر پر رکھے اور حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ امیر خسرہ رحمتہ اللہ علیہ اپنے شیخ کی محبت میں کہتے ہیں کہ:’’کہ میں تو ہو جاؤں اور تو میں ہو جائے اور میں تن بن جاؤں اور تو روح بن جائے تاکہ بعد میں کوئی یہ نہ کہہ سکے تو اور ہے اور میں اور ہوں)۔
لفظ اللہ کے ادب پر زبیدہ کی مغفرت
زبیدہ خاتون نے نہر زبیدہ بنوا کر بغداد سے عربستان تک پانی پہنچایا وہ خاتون کم سنی میں اپنی ہم جولیوں کے ساتھ جھولا جھول رہی تھی اور اپنی سہیلیوں کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف تھی‘ جھولا جھولنے کے دوران اس کادوپٹہ سر سے سرک گیا‘ دوپتہ ابھی اترا ہی تھا کہ اذان کی آواز آئی‘ اس نیک خاتون نے فی الفور جھولا روکا اور اپنا سر دوپٹے سے ڈھانپا‘ اس کے بعد زندگی گزار کر وفات پا گئی۔ ایک رشتہ دار نے خواب میں دیکھا اورپوچھا زبیدہ! کیا بنا تیرا؟ کہنے لگی! اللہ رب العزت نے میرے ساتھ آسمانی کا معاملہ فرمایا پھر اس شخص نے خواب میں ہی کہا آپ نے طویل نہر تنوکائی تھی وہی کام آ گئی ہو گی تو زبیدہ نے کہا! نہر تو بنوائی تھی لیکن وہ میری مغفرت کا سبب نہ بن سکی پھر اس سائل نے پوچھا آپ کی مغفرت کیسے ہوئی؟ اس نے بتایا کہ ایک دن میں جھولا جھول رہی تھی اس وقت میرے سر پردوپٹہ نہیں تھا‘ اذان ہونے لگی‘ لفظ اللہ سنتے ہی دوپٹہ میں نے رکھ لیا تو وہ دوپٹہ جو میں نے اللہ کی عظمت کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے سر پر رکھا‘ میرے اس عمل کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسی قبولیت ہوئی کہ اللہ رب العزت نے فرمایا تو نے میرے نام کی ایسی تعظیم کی جا آج ہم بھی تمہیں جنت میں داخل کرتے ہیں‘ نہر اور دوسرے اعمال کا تو پوچھا ہی نہیں یہ اللہ تعالیٰ کی خفیہ تدبیر ہوتی ہے۔



















































