حضرت مولانا احمد علی لاہوری رحمتہ اللہ علیہ کے حالات زندگی میں لکھا ہے کہ جب ان کی وفات ہوئی تو جہاں ان کو دفن کیا گیا‘ وہاں سے خوشبوآتی رہی جیسے امام بخاری کو دفن کیا گیا تو خوشبو آتی تھی اب لوگ حیران ہوتے ہیں کہ قبر سے خوشبو کیسے آئی‘ اس میں تعجب کی کونسی بات ہے اگر پھول زمین پر پڑا ہو تو مٹی کے اندر خوشبو آ جاتی ہے ہم بھی یہی کہتے ہیں کہ یہ حضرات بھی پھول کی مانند تھے۔
وہ گل تھے‘ اس پھول کی خوشبو مٹی میں سما گئی تھی اور پھر مٹی سے انسانوں کو محسوس ہونے لگ گئی تھی کافی عرصہ کے بعد حضرت مولانا احمد لاہوری رحمتہ اللہ علیہ اپنے خلفاء میں سے کسی کو خواب میں نظر آئے اس نے پوچھا‘ حضرت! آگے کیا معاملہ بنا؟ حضرت نے فرمایا اللہ رب العزت کے حضور میری پیشی ہوئی(حضرت اکثیر البکاء تھے‘ ان کی طبیعت غمزدہ رہتی تھی) حضرت نے خواب میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا احمد علی! تو مجھ سے اتنا کیوں ڈرتا تھا؟ یہ سن کر میں اور زیادہ ڈر گیا کہ مجھ سے پوچھا جا رہا ہے۔ جب میں اور زیادہ ڈر گیا تو مجھے فرمایا‘ احمد علی! تم اور ڈر گئے آج تمہارے ڈرنے کا دن نہیں بلکہ انعام پانے کا دن ہے ہمیں تمہارا اکرام کرنا ہے لہٰذا ہم نے تمہاری مغفرت کی اور جس قبرستان میں تمہیں دفن کیا گیا ہم نے وہاں کے بھی تمام مردوں کی مغفرت کر دی‘ سبحان اللہ نسبت بڑی عجیب چیز ہے۔باسی روٹی کو بھی نسبت قرب مل گئی
ایک بزرگ کے سامنے جب بھی دسترخوان پر روٹیاں رکھی جاتیں تو وہ ٹھنڈی روٹی پہلے کھاتے اور گرم روٹی بعد میں‘کسی نے کہا کہ حضرت!
جب ٹھنڈی اور گرم دونوں قسم کی روٹیاں موجود ہوں تو جی تو چاہتا ہے کہ گرم روٹی پہلے کھائیں کیونکہ ٹھنڈی روٹی تو ٹھنڈی ہو چکی ہوتی ہے اس لئے وہ بعد میں کھانی چاہئے‘ مگر اللہ والوں کی نگاہ کہیں اور ہوتی ہے۔ انہوں نے فرمایا نہیں یہ ٹھنڈی اور گرم دونوں میرے سامنے ہوتی ہی‘ میں ان پر نظر دوڑاتا ہوں اور اپنے دل سے پوچھتا ہوں کہ اے دل! تیرا جی چاہتا ے کہ گرم روٹی کھا کر لطف اٹھائے مگر سوچ تو سوہی کہ ٹھنڈی روٹی پہلی پکی اس لئے اس کو قرب کی نسبت زیادہ حاصل ہے اور گرم روٹی بعد میں پکی اس لئے اس کو دور کی نسبت ہے۔ لہٰذا میں قرب کی نسبت والی روٹی پہلے کھاتا ہوں اور بعد والی روٹی کو بعد میں کھاتا ہوں۔ اندازہ لگائیے دسترخوان پر بیٹھے ہوئے ان چھوٹی چھوٹی باتوں میں بھی اللہ رب العزت کے محبوبﷺ سے جو نسبت ہوتی تھی اللہ والے اس نسبت کا بھی خیال کرتے ہیں۔



















































