ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

وزنی مردوں کی آمدنی زیادہ ہونے کا امکان, رپورٹ

datetime 7  مارچ‬‮  2016
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لندن(نیوز ڈیسک)آپ کا وزن آپ کے بٹوے کے وزن پر اثر انداز ہو سکتا ،ہے یہ نتیجہ ایک نئی تحقیق کا ہے جو بتاتی ہے کہ آپ کے وزنی ہونے سے آپ کا بٹوہ بھی وزنی ہو سکتا ہے لیکن اس نتیجے کے برعکس دوسری جانب عورتوں کے لیے موٹاپا کم آمدنی کا سبب بنتا ہے۔ نئے مطالعے کا اہتمام ‘یونیورسٹی آف اوٹاگو کرائسٹ ہیلتھ اینڈ ڈوپلمنٹ’ کے محققین کی طرف سے کیا گیا تھا جس میں نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والے سائنس دانوں نے یہ انکشاف کیا ہے کہ موٹے ہونے سے ایک مرد کے بینک اکاونٹ میں فائدہ ہو سکتا ہے۔ لیکن، موٹاپے کا شکار عورتیں عام وزن رکھنے والی عورتوں کے مقابلے میں کم آمدنی گھر لے کر جاتی ہیں یہ سائنسی شواہد ایک طویل دورانیے کی تحقیق سے حاصل ہوئے ہیں، جس میں تحقیق کاروں نے 1200 بچوں کی طرز زندگی کی 38 برس تک پیروی کی ہے۔ ماہرین کی طرف سے مطالعے کی مدت کے دوران بچوں کے بچپنے سے لےکر بالغ عمر تک ان کے وزن اور دوسرے عوامل مثلاً آمدنی اور ذہنی صحت پر نظر رکھی گئی تھی۔ کرائسٹ چرچ ہیلتھ اینڈ ڈوپلمنٹ کی اشاعت کے مطابق ایک شخص کا باڈی ماس انڈیکس یا (بی ایم آئی) جتنا زیادہ ہوتا ہے، وہ عام وزن رکھنے والے مردوں کے مقابلے میں اتنے ہی زیادہ پیسے کماتا ہے۔ بی ایم آئی قد اور وزن اور جنس کی بنیاد پر جسم کی چربی کا حساب کرنے کا ایک طریقہ ہے جس میں ڈاکٹر ایک مریض کے وزن کا تعین کرتے ہیں۔ مطالعے کے سربراہ جان ہارورڈ نے کہا کہ اعداد و شمار کے تجزیے سے ہمیں پتا چلا ہے کہ وزنی مرد اور ان کی بڑی ہفتہ وار آمدنی کے درمیان واضح تعلق موجود تھا۔
محقق جان ہاروڈ اور ان کی ٹیم نے دیکھا کہ ایک شخص جس کا بی ایم آئی 30 سے زیادہ تھا یعنی جو فربہ افراد کے زمرے میں شامل تھے وہ ایک عام وزن رکھنے والے مرد کے مقابلے میں ہفتہ وار 140 ڈالر زیادہ کما رہے تھے۔ لیکن اس نتیجے کے برخلاف وزنی عورتیں عام وزن رکھنے والی عورتوں کے مقابلے میں ہفتہ وار 60 ڈالر کم کما رہی تھیں جبکہ موٹاپے کے منفی اثرات کی وجہ سے فربہ عورتیں کم پر اعتماد اور اداس تھیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ وزنی مرد ناصرف زیادہ کما رہے تھے بلکہ پراعتماد ہونے کے ساتھ ساتھ ذہنی طور پر بھی صحت مند تھے جبکہ ان کے مقابلے میں موٹی عورتیں اپنی زندگی سے کم مطمئن تھیں۔ تحقیق کاروں نے ارادہ ظاہر کیا ہے کہ وہ اپنی اگلی تحقیق کے لیے ایک بار پھر اسی گروپ کی طرز زندگی کا زیادہ باریک بینی سے جائزہ لیں گے جس میں یہ معلوم کیا جائے گا کہ فربہ عورتیں کیوں کم پیسے کماتی ہیں اور کیوں خوش نہیں رہتی ہیں جبکہ موٹے مرد زیادہ پیسے کیوں کماتے ہیں۔ محقق جان ہارورڈ نے وزنی عورتوں میں اداسی کے حوالے سے اپنے تجزیہ میں کہا کہ ممکن ہے کہ موٹی عورتوں کو ایک عام سماجی رویہ مایوس بنا دیتا ہے جس کے تحت وزنی عورتوں کو دلکشی سے محروم خیال کیا جاتا ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ عورتوں کو اکثر مردوں کے مقابلے میں اپنی زندگی کی پریشانیوں کے لیے ذمہ دار سمجھ لیا جاتا ہے جبکہ وہ خود بھی اپنے موٹاہے یا وزن کو اپنے لیے ایک مصیبت ہی خیال کرتی ہیں۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…