چین میں کسان عرصہ دراز سے مکڑیوں کو ’’حیاتیاتی کنٹرول‘‘ کے مؤثر ہتھیار کی حیثیت سے استعمال کرتے آئے ہیں۔ مکڑیوں کی آبادی بڑھانے اور انہیں پناہ گاہ اور مسکن فراہم کرنے کے لیے کھیتوں کے کناروں پر گھاس پھونس کی چھوٹی چھوٹی ڈھیریاں لگا دی جاتی ہیں۔ اِن میں مکڑیاں افزائش پاتی ہیں۔ جب چاول کی فصل میں پانی زیادہ ہوتو ان پناہ گاہوں میں مکڑیاں آرام کرتی ہیں۔ اس طریقہ کار سے نہ صرف کیڑے مار ادویہ پر خرچ ہونے والا کثیر زرِ مبادلہ بچتا ہے بلکہ اِن کے مضر اثرات سے بھی محفوظ رہا جا سکتا ہے۔اب یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ کیڑے مار ادویہ کے انسانی صحت‘ جنگلی حیات اور ماحول پر انتہائی تباہ کن اثرات پڑتے ہیں۔ ارضِ پاکستان کوجہاں اللہ تعالیٰ نے زرخیز زمینوں اور زرعی اجناس سے مالا مال کیاہے‘ وہیں انواع و اقسام کی مکڑیاں بھی پائی جاتی ہیں۔ وہ انسان اور فصل دشمن کیڑوں کی آبادی قابو میں رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔گھروں میں پائی جانے والی مکڑیاں مکھیوں اور مچھروں کواپنا شکار بناتی ہیں۔ مکھی ایک ایسا جاندار ہے جس کے خلاف ساری کیڑے مار ادویہ قریباً ناکام ہو چکی ہیں۔ یہ کیڑے بہت جلد ان ادویہ کے خلاف قوتِ مدافعت پیدا کر لیتے ہیں‘ سو وہ اِن پر اثر نہیں کرتیں۔ مکڑی کے جالوں میں مچھر بھی پھنس جاتے ہیں۔ یوں مکھی اور مچھر جیسے موذی کیڑوں سے نجات دلا کر مکڑیاں انسانی آبادی کو بیماریوں سے بچانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔کچھ ممالک میں تو مکڑیاں باقاعدہ خوراک کے طور پر استعمال کی جاتی ہیں۔ تارنتولا (Tarantola) نامی مکڑی سائز میں ایک فٹ تک بڑی ہوتی ہے۔ اس کی کچھ اقسام ایک فٹ سے بھی بڑی ہو سکتی ہیں۔ یہ مکڑی لاطینی امریکا کے ممالک میں کھائی جاتی ہے۔ برازیل میں تلی ہوئی تارنتولا مکڑیاں تھال میں لیے فروخت کرنے والے عام گھوم رہے ہوتے ہیں۔ انھیں وہاں کے لوگ مزے لے لے کر چٹ کر جاتے ہیں۔مغرب اور ایشیا کے کچھ لوگوں کو تو مکڑیوں سے اس قدرپیار ہے کہ وہ انہیں پالتو جانوروں کی طرح پالتے ہیں۔ جاپان میں یہ شوق عام ہے۔ جاپانی چھوٹے چھوٹے اپارٹمنٹس میں رہتے ہیں جن میں کتے‘ بلی جیسے جانور پالنا بہت مشکل ہے۔ اسی لیے اکثر جاپانیوں نے تارنتولا مکڑیاں پال رکھی ہیں۔ ان مکڑیوں کی عمر 25 برس اور کچھ کی اس سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔ اسی لیے یہ اچھا پالتو جانور ثابت ہوتی ہیں۔ جاپان ہی میں دنیا کا سب سے بڑا مکڑیوں کاتیوہار منایا جاتا ہے۔ ایک جاپانی قصبے میں جس کا نام ’’کاجیکی‘‘ ہے ہر سال مکڑیوں کی لڑائی کرانے کا مقابلہ منعقد ہوتا ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے ہمارے ہاں دیہات اور قصبوں میں مرغوں اور بٹیروں کی لڑائی کرائی جاتی ہے لیکن جاپان کے تناظر میں دیکھا جائے تو وہاں لڑنے والی مکڑیوں کا سائز بہت چھوٹا ہوتا ہے۔ یہ مقابلے صدیوں پرانے ہیں اور قریباً چھے صدیوں سے ہر سال جاپان کے اس قصبے میں ہو رہے ہیں۔ ان مکڑیوں کو ’’سامورائی‘‘ کہا جاتا ہے۔
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
لیگی ایم پی اے کا اداکارہ مومنہ اقبال کو ہراساں کرنے کا معاملہ! اصل کہانی سامنے آگئی
-
پاکستان میں شدید موسم کا خطرہ، این ڈی ایم اےنے متعدد الرٹس جاری کر دیے
-
پنجاب میں گاڑیوں کی نمبر پلیٹس بارےحکومت کا بڑا فیصلہ
-
اداکارہ مومنہ اقبال لیگی ایم پی اے ثاقب چدھڑ کی جانب سے ہراساں کرنے کے تمام ثبوت سامنے لے آئیں
-
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان
-
عیدالاضحیٰ کی تعطیلات؛ بینک کتنے دن بند رہیں گے؟
-
ملک بھر میں سونےکی قیمت میں بڑا اضافہ
-
برطانوی ریڈیو نے اچانک کنگ چارلس کی موت کا اعلان کردیا، ہلچل مچ گئی
-
مسجد حملہ؛ ملزم کی والدہ نے ڈھائی گھنٹے پہلے پولیس کو آگاہ کردیا تھا؛ ہولناک حقائق
-
عمران خان کی کانسٹی ٹیوشن ٹاور میں کروڑوں روپے کی 2جائیدادیں نکل آئیں
-
لیسکو کی تمام ڈبل سورس کنکشن ایک ہفتے میں ہٹانے کی ہدایت
-
ایرانی پٹرولیم مصنوعات سے پاکستانی ریفائنریوں کو شدیدخطرات
-
یورپی ممالک جانے کے خواہشمند افراد کے لیے بڑی خبر آگئی
-
پی ٹی اے کی صارفین کو مفت بیلنس سیو سروس فعال کرنے کی ہدایت



















































