جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

’’چاچا!۔۔یہ کیا ہوا؟‘‘ ’’ایک ٹائیگر کی اپنے چچا سے دل کی باتیں‘‘

datetime 7  مارچ‬‮  2015 |

بات تو تبدیلی کی ہوئی تھی‘سیاست میں اچھی روایات ڈالنے کی ‘عوامی خدمت کی‘90دنوں میں کرپشن کے خاتمے اور بلدیاتی انتخابات کی ‘صحت ‘ تعلیم و انصاف کی‘پرانے طرز سیاست اور سیاست دانوں سے جان چھڑوانے کی‘مثالی اقدامات کی‘احتساب کی‘قومی مفاد کو ذاتی اور سیاسی مفاد سے بالاتر رکھنے کی‘روشن مستقبل کی امید کی‘بیروزگاری ‘مہنگائی ‘لاقانونیت اور قتل و غارت گری کو دفن کرنے کی ‘امیر و غریب کا فرق مٹانے کی‘ اہل افراد کو عزیز واقرباء پر فوقیت دینے کی‘ صاف و شفاف چلن کی‘قوم سے جھوٹ نہ بولنے کی ‘ صحیح فیصلے کرکے ان پر ڈٹ جانے کی‘مگر ہوا کیا؟’’چار ماہ کنٹینر پر گزر گئے چار جوڈیشل کمیشن کے انتظار میں‘‘اچھی روایات تو درکنار زبان کا استعمال اور الفاظ کا چناؤشلواریں گیلی ہونے‘اپنے ہاتھ سے پھانسی دینے ‘ بے شرم ‘ چور‘ لٹیرے ‘ اوئے تک آپہنچا‘عوامی خدمت کے دعوے تبدیل ہوئے اور دعووں نے کچھ ایسی شکل اختیار کی‘امپائر کی انگلی اٹھنے والی ہے‘استعفیٰ لئے بغیر نہیں جاؤں گا‘حکومت کو مفلوج کردیں گے‘چلنے نہیں دیں گے‘نثار سے وعدہ کیا تھا کہ آگے نہیں جائیں گے لیکن اب جانا پڑے گا ‘ حکومت جانے والی ہے‘کوئی غلط فہمی میں نہ رہے‘میں نہیں جاؤں گا‘نیا پاکستان بننے کے بعد شادی کروں گا‘نہ الیکشن سے پہلے کیا کوئی وعدہ یا دعویٰ پورا ہوا نہ ہی کنٹینر پر کھڑے ہوکر کئے گئے دعووں میں سے کوئی ایک حقیقت کاروپ دھار سکا‘ تعلیم عام کرنے کا دعویٰ تو تھا مگر وہ سکول ‘کالج اور یونیورسٹی کی تعلیم تھی ‘لیڈر نے کنٹینر پر قوم کو کیا تعلیم دی ‘سول نافرمانی کرو‘بجلی کے بل جلاؤ‘ ٹیکس مت دو‘ٹول ٹیکس مت دو‘سرکاری بینکوں سے پیسہ نکلوا لو‘ رقوم ہنڈی کے ذریعے بھیجو‘قانون توڑو ‘ پارلیمنٹ اور پی ٹی وی پر حملہ کرو ٹائیگرز‘نیند نہ آئے یا بلڈ پریشر کو قابو میں لانا ہو تو گو نواز گو کے نعرے لگاؤ‘پورا پاکستان جام کردو‘90دنوں میں کرپشن کا خاتمہ اور بلدیاتی الیکشنز کا وعدہ اور 126دن کنٹینرز پربسیرا‘تمام سیاسی جماعتوں کو لعن طعن اور انہی سیاسی جماعتوں کے اراکین کیلئے آنکھیں فرش راہ‘دوسری جماعتوں میں موجودگی کرپٹ ہونے کی نشانی مگر دہلیز کے ادھر قدم اٹھتے ہی پارسائی کی سند‘بیروزگاری سے نبرد آزما کیا ہونا تھا اپنے ہی قومی اسمبلی کے اراکین کو بیروزگار تو نہ کیا کیونکہ تمام اراکین اسمبلی سے تنخواہیں و مراعات لے رہے ہیں مگر انہیں اسمبلی سے نکال کر بیکار ضرور کر کے رکھ دیا ‘پرانا طرز سیاست کیا تھا ‘ الزام دو‘ گالی دو ‘ پگڑی اچھالو‘یہی تو ہو رہا ہے‘ پرانے سیاست دانوں کے جھرمٹ میں گھرے ہیں سرکار‘احتساب کا واویلالیکن کرپشن کے الزام میں فارغ وزراء کے خلاف کوئی کارروائی نہیں‘اقرباء پروری کو گناہ کبیرہ قرار دینے والوں نے ٹکٹوں اور بعدازاں سپیشل سیٹس پر ایم این اے کس کو بنایا؟ قوم سے جھوٹ نہ بولنے کا وعدہ کرنے والے نے 15کروڑ کی آفر دینے والے کا نام نہیں بتایا‘آدھا سچ بھی جھوٹ ہی ہوتا ہے‘ڈرون حملوں کے خلاف بولتے ہوئے ایک طرف خورشید قصوری تو دوسری طرف شاہ محمود قریشی ‘ دونوں سابق وزیر خارجہ‘ ایک کے دور میں ڈرون حملے شروع ہوئے اور دوسرے کے دور میں سب سے زیادہ حملے ہوئے‘ بدنام جماعتوں سے ہاتھ نہ ملانے کے دعوے اورسینیٹ انتخاب میں ن لیگ کے امید وار کو ووٹ دینا‘300چھوٹے ڈیم بنانے کے دعوے ‘ خیر دو سال تو بیتنے کو ہیں‘ اب شائد سنبھل جائیں‘لیکن یہ کیا سینیٹ میں 6سینیٹر ز منتخب کروا کر اب چیئر مین کے انتخاب کا بائکاٹ‘ اور ایک مہینے بعد دوبارہ سڑکوں پر آنے کی دھمکی‘یعنی ماضی قریب کی تاریخ مستقبل قریب میں اپنے آپ کو دہرانے کو ہے؟ نہیں چاچا!ایسا نہیں ہونا چاہئے ۔۔۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…