جمعہ‬‮ ، 11 ستمبر‬‮ 2026 

چین کا کارنامہ ،اب زمین سے آکسیجن منگوانے کی ضرورت نہیں

datetime 18  اپریل‬‮  2023 |

بیجنگ(این این آئی) چینی سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اپنے ہی خلائی اسٹیشن پر عملے کے لیے ضروری آکسیجن کی 100 فیصد مقدار بنانے میں اہم کامیابی حاصل کرلی ہے۔

اس طرح زمین سے ہر سال 6 ٹن کے برابر آکسیجن منگوانے کی ضرورت ختم ہوچکی ہے۔فی الحال اس اسٹیشن پر شینزو 15 کا عملہ موجود ہے اور اپنی ضرورت کی تمام تر آکسیجن خود ہی بنارہا ہے۔جمعے کے روز ہاربن شہر میں چینی خلائی تنظیم کے ترجمان نے ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ خلائی جہاز کے چھ اہم یونٹ اپنی ضرورت کی 100 فیصد آکسیجن تیار کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ پانی کی 95 فیصد ضروریات بھی ری سائیکل کی جارہی ہیں۔چینی خلائی ادارے کے ماحولیاتی کنٹرول اور انجینیئرنگ آفس کے سربراہ بیان چیانگ نے کہا ہے کہ ان کے بنائے ہوئے نظام کے چھ ذیلی نظام ہیں جو ایک جانب تو کاربن ڈائی آکسائیڈ باہر خارج کررہے ہیں، پانی بنارہے ہیں اور کئی ٹن آکسیجن بنارہے ہیں۔ اس سہولت سے خطیر رقم کی بچت ہورہی ہے اور اس سے نئی ٹیکنالوجی سے بھی مدد لی جارہی ہے۔چین نے اعلان کیا ہے کہ وہ بہت جلد اپنے ٹیان گونگ خلائی اسٹیشن پر نئے مداروی ماڈیول روانہ کرے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…