ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

چیف جسٹس پر استعفے کیلئے دبائو بڑ ھ گیا

datetime 9  اپریل‬‮  2023 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) حکومتی اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے سربراہ اور جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمٰن نے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے انہیں سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ کے

درمیان محاذ آرائی کا ذمہ دار قرار دیا ہے،روزنامہ جنگ میں فاروق اقدس کی خبر کے مطابق اپنے ایک ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس نے اپنے متنازع فیصلوں سے عدلیہ جیسے معزز ادارے کو تقسیم کیا ہے اور اس ادارے کو ملک کے سپریم ادارے پارلیمنٹ سے محاذ آرائی کی پوزیشن پر لاکر ملک اور ریاست کو جس بحران میں مبتلا کیا ہے اسکا واحد حل اب انکا استعفیٰ ہے،انکا کہنا تھا کہ ابھی انہیں بلاتاخیر استعفیٰ دیدینا چاہئے جبکہ دوسری طرف جسٹس اطہر من اللہ کے فیصلے میں اٹھائے جانیوالے سوالات کے بعد چیف جسٹس پر استعفے کیلئے دبائو میں اضافہ ہو رہا ہے، عوامی نیشنل پارٹی کے صدر ایمل ولی خان نے بھی دو ٹوک لفظوں میں چیف جسٹس کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے بصورت دیگر باقاعدہ تحریک بھی چلانے کا اعلان کیا ہے جبکہ خیبرپختونخوا بار کونسل نے اپنے ایک اجلاس میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کیخلاف ریفرنس دائر کیا جائے اس طرح قومی اسمبلی کے تمام ارکان اور پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ میں شامل کم وبیش تمام فعال جماعتیں چیف جسٹس کے استعفے کیلئے ہم آواز ہوچکی ہیں اور اس اقدام کو خارج ازامکان قرار نہیں دیا جاسکتا کہ اگر اس مطالبے کے ردعمل میں وکلاء تنظیمیں اور سیاسی جماعتیں حکومت پر زیادہ دبائو ڈالتی ہیں تو چیف جسٹس کیخلاف ریفرنس کیساتھ ساتھ وکلاء تنظیمیں بھی باضابطہ طور پر تحریک چلا سکتی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…