جمعہ‬‮ ، 06 فروری‬‮ 2026 

قومی اسمبلی نے آئین کے آرٹیکل 68 کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی ہے،سپریم کورٹ بار کا اعلامیہ

datetime 8  اپریل‬‮  2023 |

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر عابدی زبیری اور سیکرٹری مقتدر شبیر نے کہا ہے کہ چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے وقار کے ساتھ کھڑے ہیں، معزز ججوں کے خلاف کھلے عام جلسوں / اجتماعات اور پارلیمنٹ میں توہین آمیز ریمارکس/ بیانات کی مزید مذمت کرتے ہیں،عدالتی فیصلہ حتمی،

قومی اسمبلی میں منظور قرارداد سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔نجی ی وی کے مطابق مشترکہ بیان میں انہوں نے کہا کہ قانون کی حکمرانی، آئین کی بالادستی کے ساتھ کھڑے ہیں،چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے وقار کے ساتھ کھڑے ہیں، سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف قرار داد کو پاکستان کے آئین اور عدلیہ کی آزادی کے منافی قرار دیتے ہیں، بدقسمتی کی بات ہے قومی اسمبلی نے آئین کے آرٹیکل 68 کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی ہے۔بیان کے مطابق آرٹیکل 68 کسی جج یا جج کے طرز عمل کے حوالے سے پارلیمنٹ میں بحث کرنے سے منع کرتا ہے، ارکان پارلیمنٹ نے عدلیہ کے ارکان کے خلاف توہین آمیز اور انتہائی اہانت آمیز تبصرے کئے ہیں،یہ تبصرے نہ صرف آئین کی خلاف ورزی بلکہ عدلیہ کی سالمیت کیلئے براہ راست چیلنج ہے۔عابد زبیری اور مقتدر شبیر کے جاری کردہ بیان کے مطابق پارلیمنٹ، عدلیہ اور ایگزیکٹو کو آزادانہ طور پر کام کرنا چاہیے، ریاست کی کوئی شاخ کسی دوسرے پر تجاوز نہیں کر سکتی اور نہ ہی اس سے برتر ہے، ایگزیکٹو اور پارلیمنٹ کے ارکان سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق عمل کرنے کے پابند ہیں،عدالتی فیصلہ حتمی اور قومی اسمبلی میں منظور کی گئی قرارداد کے ذریعے اسے الگ نہیں کیا جا سکتا۔مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق مذکورہ قرارداد ایوان کے 342 میں سے صرف 43 ارکان نے منظور کی تھی،ایسی قراردادیں انتشار کا باعث بنیں گی جب استحکام اور جمہوری طور پر منتخب حکومتوں کی ضرورت ہو۔

سپریم کورٹ بار پاکستان کے تمام قانونی برادری کے ساتھ مل کر معزز ججوں کے میڈیا ٹرائل کی شدید مذمت کرتی ہے۔بیان کے مطابق معزز ججوں کے خلاف کھلے عام جلسوں / اجتماعات اور پارلیمنٹ میں توہین آمیز ریمارکس/ بیانات کی مزید مذمت کرتے ہیں۔ مہم کا مقصد عدلیہ پر دبا ڈالنا ہے تاکہ غیر آئینی اور غیر جمہوری ایجنڈوں کو حاصل کیا جا سکے۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن تمام اسٹیک ہولڈرز سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ عدلیہ کی سالمیت کے تحفظ اور ملک میں سیاسی اور معاشی استحکام کی بحالی کے لیے باہمی اتفاق رائے پر پہنچیں، ایسا کرنے میں ناکامی سے ہمارا ملک مکمل انارکی کی طرف بڑھے گا، یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ ملک میں موجودہ سیاسی اور معاشی بحران پر قابو پانے کے لیے تمام ریاستی اداروں کا باہمی اتحاد بہت ضروری ہے۔

موضوعات:



کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…