جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

فل کورٹ نہ بنایا گیا تو ملک میں سیاسی اورآئینی بحران شدید ہوجائے گا، اعظم نذیر تارڑ

datetime 7  اپریل‬‮  2023
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (این این آئی)وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ فل کورٹ نہ بنایا گیا تو ملک میں سیاسی اورآئینی بحران شدید ہوجائیگا، دوران سماعت سیاسی جماعتوں کا موقف نہیں سنا گیا، عدالت اورحکومت میں ٹکرائو کی صورتحال نہیں ہونی چاہیے ،اگر پنجاب میں پہلے صوبائی انتخابات کرا دیئے جاتے ہیں

تو قومی اسمبلی کے انتخابات متاثر ہوں گے، آئین کے مطابق انتخابات کے شفاف انعقاد کیلئے نگران سیٹ اپ کا ہونا ضروری ہے۔جمعرات کو بین الاقوامی میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ آئین کے مطابق انتخابات کے شفاف انعقاد کیلئے نگران سیٹ اپ کا ہونا ضروری ہے،امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر ماضی میں بھی انتخابات کی تاریخ بدلی جاچکی ہے۔ انہوںنے کہاکہ حکومت سمجھتی ہے کہ اس اہم ترین قومی معاملہ پرفل کورٹ فیصلہ دیتا تو بہتر ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر اپنے تحفظات کا اظہارکیا۔ انہوںنے کہاکہ وفاقی کابینہ کی رائے تھی کہ اکثریتی فیصلے کو اقلیتی فیصلے میں نہ بدلا جائے۔ انہوں نے کہا کہ فل کورٹ نہ بنایا گیا تو ملک میں سیاسی اورآئینی بحران شدید ہوجائیگا، عدالت نے کسی سیاسی جماعت کو مقدمے کا فریق نہیں بنایا اورنہ ہی موقف سنا۔تحریک انصاف کی متعلقہ پٹیشن پر سپریم کورٹ سے فل کورٹ کی استدعا کی گئی تھی جسے مسترد کردیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ انتخابات کے معاملے میں 184 تھری پر کوٹ آرڈر آیا جسے پہلے سرکلر اور پھر 6 رکنی بینچ نے مسترد کردیا، یکم مارچ کو فیصلہ آیا تو ہمارا موقف تھا کہ 3 کے مقابلے میں 4 سے کیس خارج ہوا۔ انہوںنے کہاکہ 4 ججز نے پٹیشن خارج کی ،2 نے کیس سننے سے انکار کیا، رائے دینے والے دونوں جج صاحبان نے بینچ سے علیحدگی اختیارکی۔ انہوںنے کہاکہ از خود نوٹس کے معاملے پر2 جج صاحبان اپنی رائے کا کھل کر اظہار کرچکے ہیں۔

وزیر قانون نے کہا کہ سپریم کورٹ کے از خود نوٹس کے معاملے پر پارلیمنٹ نے بل کی منظوری دی ، خیبرپختونخوا اور پنجاب کی ہائی کورٹس میں پٹیشنز زیر سماعت ہیں، گورنر پنجاب نے اسمبلی کی تحلیل کی بھیجی ہوئی سمری پر دستخط نہیں کئے۔انہوں نے کہاکہ آئین کے مطابق مقررہ وقت کے بعد پنجاب اسمبلی خو د بخود تحلیل ہوگئی۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن با اختیار اور خودمختار ادارہ ہے، آئین کے مطابق عام انتخابات کا طریقہ کار طے ہے۔ انہوںنے کہاکہ پورے ملک میں عام انتخابات ایک وقت پر ہونے چاہئیں۔انہوںنے کہاکہ آئین کے مطابق انتخابات کی شفافیت سے ملک میں سیاسی استحکام آنا چاہئے نہ کہ نئے تنازعات جنم لیں۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں ابھی مرد م شماری کا عمل بھی جاری ہے،

انتخابات نئی مردم شماری کے تحت نہ کرانے کی صورت میں سیاسی جماعتوں کو تحفظات ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ فی الحال انتخابات کیلئے ساز گار ماحول سے متعلق بہت سے سوالات جواب طلب ہیں۔ کابینہ اجلاس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا بغور جائزہ لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ججز میں اتحاد نہ ہونے پر ادارے کی ساکھ متاثر ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس کے حوالے سے پارلیمان نے بل کی منظوری دی ہے،پورے ملک میں انتخابات ایک ہی وقت میں ہونے چاہئیں۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…