جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان سپر لیگ آئی پی ایل سے بڑی لیگ بن چکی ہے، نجم سیٹھی

datetime 18  مارچ‬‮  2023 |

لاہور (این این آئی)پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) مینجمنٹ کمیٹی کے چیئرمین نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ پی ایس ایل کو قومی اثاثہ قرار دیا جا رہا ہے،پی ایس ایل کی وجہ سے بزنس بڑھتا ہے، ایسے ایونٹس پر زیادہ سے زیادہ خرچ کرنا چاہیے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نجم سیٹھی نے کہا کہ پی ایس ایل کامیاب بنانے کیلئے تعاون کرنے

پر سب کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہائیکورٹ نے بھی کہا کہ پی ایس ایل کو ڈسٹرب نہیں کرنا، پی ایس ایل کو قومی اثاثہ قرار دیا جا رہا ہے۔چیئرمین مینجمنٹ کمیٹی نے کہا کہ غیر ملکی کھلاڑیوں اور غیر ملکی ٹیکنیشنز کا مشکور ہوں، سات ممالک کے لگ بھگ دو سو افراد یہاں موجود تھے، امریکا سے آئے براڈ کاسٹنگ سے منسلک ایک شخص نے پی ایس ایل کو کامیاب قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ پی ایس ایل میں فینز 80 فیصد تک آئے انہوں نے اسے ایک گلوبل برانڈ بنا دیا، ملتان میں بہت سپورٹ ملی وہاں لاجسٹک کی مشکلات پیش آئیں، افتتاحی تقریب ملتان میں کرنا بہت مشکل تھا، 7 ایڈیشنز میں یہ تقریب سب سے بہترین تھی۔نجم سیٹھی نے کہا کہ جب میں 22 دسمبر کو آیا تو افتتاحی تقریب سے متعلق کچھ نہیں کیا گیا تھا، برانڈنگ کیلئے ایک لاکھ روپے رکھا گیا تھا جو میرے لیے حیران کن تھا، ہم نے ایک ماہ کے اندر تمام کام مکمل کیے، میں خود اس حوالے سے دبئی گیا۔انہوں نے کہا کہ فرنچائزز نے بھی 50 فیصد حصہ ڈالا ہم نے اس کا بجٹ 10 گنا بڑھایا، ٹکٹ کی ریکارڈ سیل ہوئی، ڈیجیٹل پر ریٹنگ 10 پر گئی، ہم ڈیجیٹل سے متعلق آئی پی ایل سے آگے رہے۔ پاکستان سپر لیگ آئی پی ایل سے بڑی لیگ بن چکی ہے، نجم سیٹھی نے کہا کہ ہم 50 کروڑ کے سیلز ٹیکس دیتے ہیں، صوبائی ٹیکس بھی اتنے ہوتے ہیں، پی ایس ایل کی وجہ سے بزنس بڑھتا ہے، ایسے ایونٹس پر زیادہ سے زیادہ خرچ کرنا چاہیے۔چیئرمین مینجمنٹ کمیٹی نے کہا کہ چار وینیوز پر میچز کرانا آسان نہیں تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…