اتوار‬‮ ، 04 اکتوبر‬‮ 2026 

توشہ خانہ ریکارڈ، عوام دیوالیہ، اشرافیہ کے وارے نیارے

datetime 15  مارچ‬‮  2023 |

اسلام آباد(اے ایف پی) حکمرانوں، سیاستدانوں اور اعلیٰ حکام نے جواہرات، زیورات، ہیروں سے مرصع طلائی گھڑیوں، بلٹ پروف گاڑیوں اور دیگر نادر اور قیمتی اشیاء کی شکل میں غیر ملکی عمائدین سے گزشتہ 20 سال کے دوران تحائف کی شکل جو خزانہ حاصل کیا۔

ان میں 150رولیکس، گھڑیاں، بلٹ پروف، بی ایم ڈبلیو گاڑیاں، 21 قیراط کا طلائی تاج بھی شامل ہیں۔ جن کا جاری حالیہ ریکارڈ میں انکشاف کیا گیا ہے۔اس وقت 22کروڑ نفوس پر مشتمل پاکستان اقتصادی دیوالیہ پن کے دہانے پر ہے مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی ہے۔ قوت خرید عام آدمی کے قابو میں نہیں رہی لیکن طبقہ اولیٰ کے معمولات میں کوئی فرق پڑتا دکھائی نہیں دیتا۔توشہ خانہ فارسی کا لفظ ہے جس کے معنی بیت المال کے ہیں۔ جہاں سیاست دان کو ملنے والے کم قیمت تحائف رکھ سکتے ہیں جبکہ بیش قیمت تحائف حیران کن طور پر کل قیمت کا 20 فیصد ادا کرکے گھر لے جا سکتے ہیں۔اس غیر ضروری قانونی سہولت کی نئی حد متعارف کرائی جا رہی ہے۔ جس کے 300 ڈالرز سے زائد مالیت کے تحائف حکام نہیں رکھ سکیں گے۔ مختلف ممالک میں سفارتی سطح پر تحائف قیمتی اشیاء کے بجائے دو ثقافتوں کا آپس میں علامتی تبادلہ ہوتاہے۔ لیکن اربوں روپے مالیت کی قیمتی اشیاء کو شیر مادر کی طرح ہضم کر لیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…