جمعہ‬‮ ، 06 فروری‬‮ 2026 

اثاثے ہوں یا اولاد، ظاہر نہ کرنے پر نااہلی ہوتی ہے، عطا تارڑ کا ٹیریان کیس بارے عدالت سے بڑا مطالبہ

datetime 1  مارچ‬‮  2023 |

اسلام آباد (این این آئی) وزیراعظم کے معاون خصوصی عطا تارڑ نے مطالبہ کیا ہے کہ ٹیریان وائٹ کیس کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت ہونی چاہئے،عمران خان صادق و امین ہیں تو عدالتوں سے کیوں بھاگ رہے ہیں،یہ پاناما کی سماعت میں بھاگ بھاگ کر آتے تھے، اپنی باری آئی تو پھر چھپنے کی کیا بات ہے؟، صحافیوں کے ساتھ ہوا وہ قابل مذمت ہے،

صحافیوں کے حقوق کا تحفظ اولین فرائض میں ہے، عمران عدالتوں سے باہر بیٹھ کر بھڑکیں مارتے ہیں۔ عطااللّٰہ تارڑ نے کہا ہے کہ اثاثے ہوں یا اولاد، ظاہر نہ کرنے پر نااہلی ہوتی ہے، پارٹی سربراہ چاہے ایم این اے ہو یا نہ ہو یہ قانون لگے گا۔ اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے معاون خصوصی عطا تارڑ نے کہاکہ عمران خان نے گوشواروں میں ذاتی معلومات چھپائی ہیں اور اس کیس کو تاخیر کا شکار کرنا چاہتے ہیں، اسی لئے وہ عدالتوں سے مسلسل بھاگ رہے ہیں، اگر وہ صادق اور امین ہیں تو کیوں چھپ رہے ہیں۔عطا تارڑ نے کہا کہ پاناما کی سماعت میں بھاگ بھاگ کر آتے تھے، اپنی باری آئے تو پھر چھپنے کی کیا بات ہے، باہر آپ بڑھکیں مارتے ہیں اور عدالتوں میں آکر کہتے ہیں یہ کیس آپ کے دائرہ اختیار میں نہیں، اگر چھپانے کیلئے کچھ نہیں تو دائرہ اختیار کو چیلنج کیوں کیا جارہا ہے، عمران خان اپنے وکلاء کو ہدایت دیں کہ وہ میرٹ پر یہ کیس لڑیں۔معاون خصوصی نے کہا کہ عمران خان ٹیریان وائٹ کے کیس پر جواب نہیں دینا چاہتے، پبلک آفس ہولڈرز اگراولاد چھپائے تو نااہل ٹھہرتا ہے، جو شخص پارٹی کا چیئرمین ہو وہ پبلک ہولڈرز کی کیٹیگری میں آئے گا، یہ کیس بیٹی چھپانے ہی نہیں بلکہ جھوٹا حلف نامہ دینے کا بھی کیس ہے۔عطا تارڑ نے کہا کہ سیتا وائٹ لاس اینجلس کی عدالتوں میں خوار ہوتی رہی اور اپنی بچی کیلئے قانونی جنگ لڑی، لاس اینجلس کورٹ کا حکم سب کے سامنے ہے، سیتا وائٹ عمران خان کو کہتی رہی کہ یہ کاغذ ہیں،

آکر مانو، خود عمران خان نے 2004میں حلف نامہ لکھا کہ بچی کی خالہ کو گارڈین بناتا ہوں۔عطا تارڑ نے کہا کہ ایک وزیراعظم کو بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر نااہل کیا گیا تھا، جب کہ عمران خان کا کیس جھوٹے بیان حلفیہ کا بھی ہے، فارن فنڈنگ کیس کو مکمل ہونے میں 6سال لگے، اب بیٹی چھپانے کے کیس کی اگلے ہفتے سماعت ہوگی، دلائل مکمل ہوں گے،

قانونی نکات رکھے گئے کہ عمران خان ایم این اے نہیں ہیں، ٹیریان وائٹ کیس کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت ہونی چاہئے۔معاون خصوصی نے مزید کہا کہ بچنے کے لیے جو حیلے بہانے تلاش کر رہے ہیں، یہ مناسب نہیں، عدالت کا دائرہ اختیار چیلنج کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، عدالتوں کے اندر جلسے کیے جاتے ہیں، کل جو صحافیوں کے ساتھ ہوا وہ قابل مذمت ہے، صحافیوں کے حقوق کا تحفظ ہمارے اولین فرائض میں ہے۔ عمران خان عدالتوں سے باہر بیٹھ کر بھڑکیں مارتے ہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…