اسلام آباد / کراچی(آن لائن)متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کی جانب سے وفاقی حکومت سے اتحاد ختم کرنے کی دھمکی کے بعد مسلم لیگ ن کے رہنما و وفاقی وزیر ایازصادق نے ایم کیو ایم رہنما و وفاقی وزیر امین الحق سے ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے جبکہ وفاقی سردار ایاز صادق آج کراچی پہنچیں گے
جہاں انکی ایم کیو ایم پاکستان کے وفد سے ملاقات متوقع ہے۔ ۔ذرائع کے مطابق دونوں رہنمائو ں کے مابین ٹیلی فونک رابطے میں اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ ایم کیو ایم کے تحفظات کے حوالے سے بھی بات چیت کی گئی۔ مسلم لیگ ن کے رہنما نے ایک بار پھر ایم کیو ایم کو معاہدے پر پیدا ہونے والے تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی۔قبل ازیں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے کنونیئر خالد مقبول صدیقی نے کہا تھا کہ الیکشن غیر جانب دار اور شفاف ہوں تو ہم ضرور تیار ہیں مگر سندھ کے اندر بلدیاتی الیکشن کے حوالے سے جو حلقہ بندیاں کی گئی ہیں وہ متنازع ہیں، 15 جنوری کو شفاف انتخابات ہورہے ہیں اور ہم نے 8 ماہ کے دوران پیپلز پارٹی کے رہنماؤں سے درجنوں ملاقاتیں کی ہیں جن میں کہا ہے کہ فوری طور پر کراچی و حیدر آباد کی حلقہ بندیاں تبدیل کی جائیں۔انہوں نے عندیہ دیا کہ اگر حلقہ بندیوں کو درست نہ کیا گیا تو پھر ہم کارکنان اور عوام کے پاس جائیں گے اور سڑکوں پر آجائیں گے اور یہ بھی سوچیں گے کہ حکومت میں رہتے ہوئے الیکشن لڑیں یا پھر اتحاد کو چھوڑ دیں۔اگر الیکشن غیر جانب دار نہیں ہوئے تو پْرامن کس طرح ہوں گے؟ الیکشن کمیشن نے حلقہ بندیوں کی ذمہ داری سندھ حکومت کو کیوں سونپی؟۔ خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ہمیں میڈیا سے اطلاع ملی کہ بلدیاتی الیکشن 15 جنوری کو ہورہے ہیں،۔ہم باضابطہ طور پر پیپلز پارٹی کے اتحادی نہیں ہیں،
ہمارا ایک معاہدہ ہوا تھا جو سندھ کے حوالے سے پیپلز پارٹی سے تھا، آج ہمارا رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا ہے جس میں اہم امور پر تبادلہ خیال ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں پری پول رگنگ ہوچکی ہے، ایم کیو ایم کے زیر اثر علاقوں میں 90 ہزار ا?بادی پر یوسی بنائی گئی
جبکہ دوسری جانب 20 سے 25 ہزار افراد پر یوسی بنادئی گئی، الیکشن کمیشن 15 جنوری سے قبل ازسر نو حلقہ بندیاں کرے انہوں نے کہا کہ ہم اس معاملے میں الیکشن کمیشن کے پاس بھی جائیں گے، وزیر اعظم شہباز شریف آئندہ 24 گھنٹے میں بتائیں کہ جو آپ نے ذمہ داری لی تھی اس پر قائم ہیں یا نہیں؟
تا کہ ہم اپنا کوئی فیصلہ کرسکیں۔۔ان کا کہنا تھا کہ یہ حلقہ بندیاں اس طرح کی گئی ہیں تاکہ اس شہر کا مینڈیٹ چرایا جاسکتا ہے، وزیراعظم صاحب! آپ نے تو اسلام آباد میں حلقہ بندیاں کرلیں اب بتائیں کہ اپنے وعدے پر عمل درا?مد کب کرارہے ہیں؟ان کا کہنا تھا کہ
وزیر اعظم کو ہم ٹیلی فون کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کررہے، 2018ء� میں شفاف الیکشن نہیں ہوئے اس کے نتائج آپ نے دیکھ لیے، اس حلقہ بندیوں کی صورت میں عوام الیکشن کیسے قبول کریں گے؟ بوکس ووٹنگ اور جعلی حلقہ بندیاں والے الیکشن کسی کو قبول نہیں۔خالد مقبول صدیقی نے مزید کہا کہ ایک سے
دو دن میں جنرل ورکر اجلاس بلوائیں گے جس میں فیصلہ ہوگا، ہمارے بغیر الیکشن کی کوئی حیثیت نہیں ہوگی، ہم صاف شفاف اور غیرجانب دار الیکشن چاہتے ہے، کراچی نہیں بلکہ پورے پاکستان میں صوبے بنانے چاہئیں۔دریں اثنائایم کیو ایم کی اتحاد چھوڑنے کی دھمکی پر حکومت متحرک ہوگئی ہے ۔ ذرائع کے مطابق وفاقی سردار ایاز صادق آج (پیر کو ) کراچی پہنچیں گے ۔ ایم کیو ایم پاکستان کے وفد کی کراچی میں ان سے ملاقات متوقع ہے۔



















































