ارشد شریف قتل،حکومتی جے آئی ٹی مسترد، نئی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کا حکم

  بدھ‬‮ 7 دسمبر‬‮ 2022  |  14:37

اسلام آباد ( آن لائن)سپریم کورٹ نے سینئر صحافی اور اینکر پرسن ارشد شریف قتل کیس میں اسلام آباد پولیس کی قائم مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) مسترد کرتے ہوئے ائی ایس آئی، پولیس، آئی بی اور ایف آئی اے کے نمائندوں پر مشتمل نئی خصوصی جے آئی ٹی تشکیل دینے کا حکم دے دیا۔ خصوصی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم میں شامل افسران کے نام آج طلب کر لیے ۔

چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے ریمارکس دیئے کہ ارشد شریف کی والدہ نے کئی لوگوں کے نام دیئے ہیں، حکومت قانون کے مطابق تمام زاویوں سے تفتیش کرے،جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ مقدمے میں کس بنیاد پر 3 لوگوں کو نامزد کیا گیا ہے؟ جائزہ لینا ہوگا کہ غیر ملکیوں کے خلاف مقدمہ درج ہو سکتا ہے یا نہیں،جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ یہ انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے، تنبیہ کر رہا ہوں کہ حکومت بھی سنجیدگی سے لے،عدالت صرف آپ کو سننے کے لیے نہیں بیٹھی ہوئی، ۔بدھ کے روز چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی اور جسٹس محمد علی مظہر پر مشتمل لارجر بینچ نے کیس کی سماعت کی،سماعت کے آغاز میں ارشد شریف کے بہیمانہ قتل کی تحقیقات سے متعلق فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی۔سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے ارشد شریف قتل پر حکومت کی قائم اسپیشل جے آئی ٹی مسترد کرتے ہوئے تحقیقات کے لیے نئی خصوصی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کا حکم دیا۔چیف جسٹس نے حکم دیا کہ حکومت نئی جے آئی ٹی کا نوٹی فکیشن جاری کرے جس میں آئی ایس آئی، پولیس، آئی بی اور ایف آئی اے کے نمائندے شامل کیے جائیں۔انہوں نے ریمارکس دیے کہ چاہتے ہیں تفتیش سینئر اور آزاد افسران سے کرائی جائے، جے آئی ٹی ارکان معاملہ فہم اور دوسرے ملک سے شواہد لانے کے ماہر ہوں، اقوام متحدہ سمیت عالمی اداروں سے بھی معاونت ضروری ہو

تو وزارت خارجہ معاونت کرے۔اور ارشد شریف کے اہلخانہ سے تمام معلومات شیئر کی جائیں، یقینی بنانا ہے کہ قابل اور اہل افسران قانون کے مطابق اپنا کام کریں۔دوران سماعت صحافی نے عدالت کو بتایا کہ پولیس نے ارشد شریف کے اہلخانہ کے ساتھ درست رویہ نہیں اپنایا، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ پولیس والا معاملہ بھی دیکھ لیں گے، پہلے ارشد شریف کی والدہ کا موقف سنیں گے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ کینیا کے حکام سے تحقیقاتی ٹیم نے معلومات حاصل کیں، فائرنگ کرنے والے 3 اہلکاروں سے ملاقات کرائی گئی، چوتھے اہلکار کے زخمی ہونے کے باعث ملاقات نہیں کرائی گئی، کینیا میں متعلقہ وزیر اور سیکریٹری کابینہ سے ملاقات کی کوشش کر رہے ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ بہیمانہ قتل کے اصل شواہد کینیا میں ہیں، کینیا کے حکام کے ساتھ معاملہ اٹھانا ہوگا،

فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کا کام قابل ستائش ہے۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ پولیس نے جے آئی ٹی تشکیل دے دی ہے، جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ فائرنگ کرنے والے اہلکاروں کے نام تک رپورٹ میں نہیں لکھے گئے، فائرنگ کرنے والے اہلکاروں کے خلاف مقدمہ کیوں درج نہیں کیا گیا؟جسٹس جمال مندوخیل نے استفسارکیا کہ مقدمے میں کس بنیاد پر 3 لوگوں کو نامزد کیا گیا ہے؟

جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ جائزہ لینا ہوگا کہ غیر ملکیوں کے خلاف مقدمہ درج ہو سکتا ہے یا نہیں، انکوائری رپورٹ ریکارڈ کا حصہ بنے گی۔جسٹس مظاہر نقوی نے ریمارکس دیے کہ یہ انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے، تنبیہ کر رہا ہوں کہ حکومت بھی سنجیدگی سے لے، عدالت صرف آپ کو سننے کے لیے نہیں بیٹھی ہوئی۔چیف جسٹس نے کہا کہ ارشد شریف کی والدہ 2 شہدا کی ماں ہیں،

شہید کی والدہ کا موقف صبر اور تحمل سے سنا جائے۔ارشد شریف کی والدہ نے عدالت کو بتایا کہ جس طرح پاکستان سے ارشد شریف کو نکالا گیا وہ رپورٹ میں لکھا ہے، دبئی سے جیسے ارشد کو نکالا گیا وہ بھی رپورٹ میں ہے، مجھے صرف اپنے بیٹے کے لیے انصاف چاہیے۔جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ آپ کو تحقیقاتی ٹیم کو بیان ریکارڈ کرانا ہوگا، جس پر ارشد شریف کی والدہ نے کہا کہ تحقیقاتی ٹیم کو بیان پہلے بھی ریکارڈ کروا چکی ہوں۔چیف جسٹس نے کہا کہ ارشد شریف کی والدہ نے کئی لوگوں کے نام دیے ہیں،

حکومت قانون کے مطابق تمام زاویوں سے تفتیش کرے، فوجداری مقدمہ ہے اس لیے عدالت نے کمیشن قائم نہیں کیا، کیس شروع ہی خرم اور وقار سے ہوتا ہے، جے آئی ٹی میں ایسا افسر نہیں چاہتے جو ان کے ماتحت ہو جن کا نام آرہا ہے۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کینیڈا میں پاکستانی خاتون کے قتل پر اقدامات کرتے تو شاید یہ واقعہ نہ ہوتا، ان کا بیٹا تو جاچکا اب دوسروں کے بچے بچانا چاہتی ہیں،

واقعے کے بعد شور کرنے کے بجائے پہلے کچھ نہیں کیا جاتا۔عدالت نے کہا کہ ایف آئی آر مختصر ہے کیونکہ تفتیش ہوئی نہ ہی کوئی چشم دید گواہ ہے، بتایا گیا تفتیش کے لیے اسپیشل جے آئی ٹی بنائی جارہی ہے، کل تک جے آئی ٹی کے تمام ناموں سے آگاہ کیا جائے۔عدالت کی جانب سے ہدایت دی گئی کہ تفتیش سینئر اور آزاد افسران سے کرائی جائے،

جے آئی ٹی ارکان معاملہ فہم اور دوسرے ملک سے شواہد لانے کے ماہر ہوں، وزارت خارجہ شواہد جمع کرنے میں جے آئی ٹی کی مکمل معاونت کرے، اقوام متحدہ سمیت عالمی اداروں سے بھی معاونت ضروری ہو تو وزارت خارجہ معاونت کرے۔عدالت کی جانب سے مزید حکم دیا گیا کہ ارشد شریف کے اہلخانہ سے تمام معلومات شیئر کی جائیں، یقینی بنانا ہے کہ قابل اور اہل افسران قانون کے مطابق اپنا کام کریں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ارشد شریف کی والدہ خود آنا چاہیں تو آسکتی ہیں، ارشد شریف کی اہلیہ کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کی کاپی فراہم کی جائے، جس پر جسٹس مظاہر نقوی کا کہنا تھا کہ فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ پبلک ہے۔بعد ازاں عدالت نے سماعت آ ج جمعرا ت ساڑھے 12 بجے تک ملتوی کردی۔



زیرو پوائنٹ

اب تو آنکھیں کھول لیں

یہ14 جنوری کی رات تھی‘ پشاور کے سربند تھانے پر دستی بم سے حملہ ہو گیا‘ دھماکا ہوا اور پورا علاقہ لرز گیا‘ وائر لیس پر کال چلی اور ڈی ایس پی سردار حسین فوری طور پر تھانے پہنچ گئے‘ ان کے دو محافظ بھی ان کے ساتھ تھے‘یہ لوگ گاڑی سے اترے‘ چند قدم لیے‘ دور سے فائر ہوا‘سردار ....مزید پڑھئے‎

یہ14 جنوری کی رات تھی‘ پشاور کے سربند تھانے پر دستی بم سے حملہ ہو گیا‘ دھماکا ہوا اور پورا علاقہ لرز گیا‘ وائر لیس پر کال چلی اور ڈی ایس پی سردار حسین فوری طور پر تھانے پہنچ گئے‘ ان کے دو محافظ بھی ان کے ساتھ تھے‘یہ لوگ گاڑی سے اترے‘ چند قدم لیے‘ دور سے فائر ہوا‘سردار ....مزید پڑھئے‎