جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

ریکوڈک معاہدے کیلئے کی گئی قانونی ترامیم پر حکومت مطمئن کرے، سپریم کورٹ

datetime 14  ‬‮نومبر‬‮  2022
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد(این این آئی)سپریم کورٹ آف پاکستان نے ریکوڈک کے صدارتی ریفرنس پر کہا ہے کہ ریکوڈک معاہدے کیلئے کی گئی قانون میں کی گئی ترامیم پر حکومت عدالت کو مطمئن کرے کہ قانون سازی درست طور پر کی گئی۔پیر کو سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بنچ نے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں ریکوڈک کے

صدارتی ریفرنس پر سماعت کی۔ ایڈیشنل اٹارنی نے ریکوڈک منصوبے پر مجوزہ قانون سازی سے متعلق دلائل دئیے۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے کہا کہ معدنیات ایکٹ 1948ء پر ڈرافٹ بلوچستان اسمبلی سے منظور ہونا باقی ہے، بلوچستان حکومت اور حزب اختلاف نے متفقہ طور پر ریکوڈک سے متعلق قانون سازی پر قرارداد منظور کی۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ریکوڈک منصوبے میں کرپشن کا کوئی امکان نہیں، ریکوڈک منصوبے میں معاہدے اور بات چیت کھلے عام اور شفافیت سے ہو رہی ہیں۔جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ریکوڈک معاہدے کیلئے کی گئی قانونی ترامیم پر حکومت ہمیں مطمئن کرے، یہ واضح نہیں ہے کہ معدنیات ایکٹ 1948ء وفاقی ہے یا صوبائی، اگر معدنیات ایکٹ 1948ء وفاق کا قانون ہے اس میں صوبہ ترمیم کیسے کرسکتا ہے؟ قوانین یا تو صوبائی ہوتے ہیں یا وفاقی، صوبے وفاقی قوانین کو اپناتے اور ان میں ترامیم کرتے ہیں۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ حکومت بلوچستان معدنیات ایکٹ 1948ء کی صوبے سے متعلقہ شقوں میں ترمیم کر رہی ہے۔اس پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ریکوڈک منصوبے کے لیے کی جانے والی قانون سازی کا اطلاق باقی صوبوں میں ہو گا یا نہیں؟ جب حکومت اتنی محنت کر رہی تھی تو وفاقی قانون میں بھی ترمیم کرلیتی، حکومت عدالت سے اتنی محنت کیوں کرا رہی ہے؟چیف جسٹس عمر عطابندیال نے کہا کہ حکومت نے ریکوڈک معاہدہ 15 دسمبر تک کرنا ہے، اس کیس کو جلد ختم کرنا چاہتے ہیں تا کہ رائے دینے کے لیے وقت میسر ہو، (آج)منگل سے کیس کو صبح ساڑاھے گیارہ بجے سے سنیں گے۔بعد ازاں کیس کی سماعتملتوی کر دی گئی۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…