جمعہ‬‮ ، 06 فروری‬‮ 2026 

میرے بیٹے بہت پریشان تھے،عمران خان کا حملے کے بعد انکشاف

datetime 10  ‬‮نومبر‬‮  2022 |

لاہور (این این آئی)پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین،سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حملے کے بعد ان کا خاندان خصوصاً برطانیہ میں مقیم میرے بیٹے بہت پریشان تھے۔برطانوی ٹیلی ویژن کے اینکر پیئرز مورگن کے ساتھ ایک تفصیلی انٹرویو کے دوران عمران خان نے قاتلانہ حملے میں مبینہ طور پر ملوث عناصر،

اس حملے کے نتیجے میں ان کی اور ان کے خاندان کی جانب سے ادا کی جانے والی بھاری قیمت، پاکستان کے امریکا کے ساتھ تعلقات کے ساتھ ساتھ رشی سوناک کے برطانوی وزیر اعظم بننے کے بارے میں اپنے خیالات کا کھل کر اظہار کیا۔ عمران خان نے حملے کے بعد پہنچنے والے اس صدمے کے بارے میں بات کی جس سے ان کے بیٹے، ان کی سابقہ اہلیہ جمائما گولڈ اسمتھ گزریں۔انہوں نے بتایا کہ 2 گھنٹے بعدجیسے ہی میں ہسپتال پہنچا، میں نے اپنے بیٹوں سے بات کی اور اپنی سابقہ بیوی سے بھی گفتگو کی جو کافی پر سکون تھی تاہم میرے بیٹے کافی پریشان تھے اور مجھے امید ہے کہ جلد ہی ان سے ملاقات ہوگی۔عمران خان نے انکشاف کیا کہ ان کے بڑے صاحبزادے (سلیمان) نے ہمیشہ سیاست میں آنے کے ان کے فیصلے کی مخالفت کی انہوں نے کہا کہ جب مجھے گولی ماری گئی تو وہ کافی پریشان تھا۔سابق وزیر اعظم نے اپنی جان کو لاحق خطرات کو مسترد رد کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا اپنی زندگی پر کوئی قابو نہیں، یہ سب اللہ کے ہاتھ میں ہے۔عمران خان نے کہا کہ ان پر حملہ اصل میں انہیں اشرافیہ کو بے نقاب کرنے سے روکنے کے لیے ہمیشہ کے لیے خاموش کرنے کی کوشش تھی۔انہوں نے کہا کہ یہ طاقتور لوگ مجھے دوبارہ نشانہ بنانے کی کوشش کریں گے، کیونکہ انہیں خوف ہے کہ میری پارٹی آئندہ انتخابات میں کلین سوئپ کرے گی۔ انہوں نے کہاکہ میں نے اپنی رہائش گاہ پر سیکیورٹی بڑھا دی ہے۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے اصرار کیا کہ قانون کی حکمرانی ہی وہ چیز ہے جو مہذب معاشرے اور بنانا ری پبلک میں فرق کرتی ہے، جو چیز ہمیں ترقی کرنے سے روک رہی ہیوہ یہ ہے کہ پاکستان میں انصاف نہیں ہے۔عمران خان نے ایک بار پھر افسوس کا اظہار کیا کہ وہ حملے کے بعد تین لوگوں کے خلاف مقدمہ درج نہیں کروا سکے۔انہوں نے کہا کہ ذرا تصور کریں کہ اس ملک میں ایک عام آدمی پر کیا گزرتی ہوگی،

جب وہ طاقتور کے خلاف آتا ہے تو بے بس ہوجاتا ہے۔عمران خان نے الزام لگایا کہ ان پر حملے میں 2 افراد شامل تھے جبکہ دوسرا حملہ آور تاحال مفرور ہے۔انہوں نے کہا کہ جب آپ مافیا کے خلاف کھڑے ہوتے ہیں تو آپ کی جان کو خطرہ رہتا ہے، میں نے انصاف کے لیے لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ امریکا کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کی اہمیت کے بارے میں ان کا مؤقف ہمیشہ واضح رہا ہے۔

عمران خان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ امریکا سپر پاور ہے، یہ ناقابل تصور ہے کہ کوئی ملک امریکا کے ساتھ اچھے تعلقات نہیں رکھنا چاہے گا۔ میں امریکا کے ساتھ ایسے ہی تعلقات رکھنا چاہوں گا جیسے کہ بھارت کے تعلقات ہیں امریکا کے ساتھ،رشی سوناک کے برطانوی وزیر اعظم کے طور پر منتخب ہونے پر اظہار خیال کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ وہ اقلیتی نسل سے تعلق رکھنے والے شخص کے انتخاب پر خوشگوار حیرت میں مبتلا ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انہیں کاؤنٹی کرکٹ کید وران نسل پرستی کا سامنا کرنا پڑا۔پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان ٹی 20 ورلڈ کپ فائنل سے متعلق سوال پر عمران خان نے پاکستانی کپتان بابر اعظم کی تعریف کی سابق وزیراعظم نے کہا کہ میں نے بابر اعظم کو 2 بار کھیلتے دیکھا اور میں نے فوری طور پر کرکٹ بورڈ کے سربراہ سے کہا کہ وہ انہیں کپتان بنائیں کیونکہ وہ ایک غیر معمولی کھلاڑی ہے۔عمران خان نے کہا کہ ٹیم اچھی لگ رہی ہے اور ہم فائنل جیت سکتے ہیں۔

موضوعات:



کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…