جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

پنجاب حکومت نے ایف آئی آر درج کرنے سے منع کررکھا تھا، آئی جی پنجاب کی سپریم کورٹ کو وضاحت

datetime 7  ‬‮نومبر‬‮  2022
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد( آن لائن) چیف جسٹس پاکستان نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان پر قاتلانہ حملے کا 24 گھنٹے میں مقدمہ درج کرنے کا حکم دیدیا۔سپریم کورٹ میں عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی، لاہور رجسٹری سے آئی جی پولیس ویڈیو لنک پر پیش ہوئے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ 90 گھنٹے سے زائد کا وقت گزر گیا اور ابھی تک ایف آئی آر ہی درج نہیں ہوئی۔

جس پر آئی جی پنجاب نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب سے ایف آئی آر کے انداج پر مشاورت کی تھی جو درخواست دی گئی اس پر مقدمہ درج کرنے پر تحفظات ہیں۔سماعت کے دوران چیئرمین تحریک انصاف کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان پر حملے کا مقدمہ تاحال درج نہیں ہو سکا ہے۔چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے کہا ہے کہ آئی جی پنجاب بتائیں کتنے وقت میں حملے کی ایف آئی آر ہوگی، اگر ایف آئی آر میں تاخیر ہو رہی ہے تو اس کا مطلب ہے شواہد ضائع ہو رہے ہیں، 24 گھنٹے میں مقدمہ درج نہ ہوا تو سوموٹو لیا جائے گا۔ سوموٹو نوٹس میں آئی جی صاحب آپ جواب دہ ہونگے، واقعے کی تفتیش کریں شواہد اکٹھے کریں، فرانزک کرائیں، قومی لیڈر کے قتل کی کوشش کی گئی، معاملے کی نزاکت کو سمجھیں۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے آئی جی پنجاب سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی بین القوامی سطح پر کامیابیوں کا سنا ہے، آپ ایف آئی آر درج کرکے ہمیں آگاہ کریں۔

چیف جسٹس نے آئی جی کو ہدایت کی کہ آپ کام جاری رکھیں، اگر کسی نے مداخلت کی تو پھر ہم مداخلت کریں گے۔صوبائی حکومت کا مختلف موقف ہو تب بھی پولیس قانون کے مطابق ایف آئی آر درج کرے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ایک قومی لیڈر پر قاتلانہ حملہ ہوا ہے۔ کرمنل جسٹس سسٹم کے تحت ایف آئی آر درج ہوناضروری ہے۔ عدالت فوجداری نظام انصاف کو بلارکاوٹ چلانے کو یقینی بنائے گی۔

ایف آئی آر نہ ہونے کا مطلب ہے اب تک پولیس تحقیقات شروع نہیں ہوئیں۔ پولیس نے تحقیقات نہیں کیں تو ممکن ہے جائے وقوعہ سے شواہد مٹا دیے گئے ہوں۔ اس طرح کیس کے ثبوت متنازع اور بعد میں عدالت میں ناقابل قبول ہوں گے۔ واضح رہے ایف آئی آر کے معاملے پر آئی جی پنجاب فیصل شاہکار نے اپنا چارج چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا۔ آئی جی پنجاب ایف آئی آر میں شامل کرنے والے ناموں پر اعتراض کر رہے تھے جس کے بعد پی ٹی آئی، پنجاب حکومت اور آئی جی پنجاب میں اختلافات پیدا ہوگئے تھے

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…