جمعہ‬‮ ، 06 فروری‬‮ 2026 

ملک لوٹنے والے چوروں کو خفیہ ہاتھ کی وجہ سے سزا نہیں دلواسکا، عمران خان

datetime 2  ‬‮نومبر‬‮  2022 |

گوجرانوالہ(این این آئی)سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ اپنے دورِ حکومت میں میری پوری طرح کوشش تھی 30 سالوں سے ملک کو لوٹنے والے چوروں کو کسی طرح سزا ہو تاہم خفیہ ہاتھ تھے جس کی وجہ سے انہیں سزا نہیں ہوتی تھی،جو نیب کو کنٹرول کر رہے تھے

انہوں نے ان چوروں کو بچایا جو آج ہمارے اوپر مسلط کیے ہوئے ہیں،ہمارا ملک اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا جب تک طاقتور کو قانون نے نیچے نہیں لایا جاتا۔آزادی مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے کہا کہ ہمارا ملک اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا جب تک طاقتور کو قانون نے نیچے نہیں لایا جاتا۔سابق وزیراعظم نے کہاکہ رانا ثناء اللہ کے خلاف کرپشن کیس میں ایک افسر تفتیش کر رہا تھا مگر پتا چلا کہ اس افسر نے خودکشی کرلی جس کی کوئی تحقیقات نہیں ہوئی۔انہوں نے کہا کہ اپنے دورِ حکومت میں میری پوری طرح کوشش تھی کہ 30 سالوں سے ملک کو لوٹنے والے چوروں کو کسی طرح سزا ہو تاہم خفیہ ہاتھ تھے جس کی وجہ سے انہیں سزا نہیں ہوتی تھی اور ہم کچھ نہیں کر سکے کیونکہ نیب میرے ہاتھ میں نہیں تھا۔انہوں نے کہاکہ جو نیب کو کنٹرول کر رہے تھے انہوں نے ان چوروں کو بچایا جو آج ہمارے اوپر مسلط کیے ہوئے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ ہمارے دور میں بجلی، ڈیزل اور دیگر اشیا کی قیمتیں کم تھیں مگر جب سے چوروں کو مسلط کیا گیا ہے قیمتیں اوپر جانے لگی ہیں، سب کو سوال پوچھنا چاہیے کہ 6 ماہ میں کونسی قیامت آگئی کہ تمام چیزوں کی قیمتیں اوپر چلی گئیں۔انہوں نے کہا کہ میں آگے جاکر یہ سوال کروں گا کہ اس کا ذمہ دار کون ہے، کس نے ان چوروں کو ہمارے اوپر مسلط کیا اور ان کے سارے کیسز ختم ہونا شروع ہوئے، این آر او ملنے لگا،

مریم نواز بھی بری ہوگئیں جبکہ مریم کا پاپا (نواز شریف) بھی واپس آنے کی تیاری کر رہا ہے اور شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے کیسز بھی ختم ہوگئے۔پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ اب انہوں نے ایسے قانون بنا دیے ہیں کہ صرف چھوٹا چور پکڑا جائے گا جبکہ بڑے چور ملک سے پیسا چوری کرکے باہر جائیں تو ان کے لیے کوئی قانون نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہاکہ اگر قوم اپنے حقوق کیلئے کھڑی نہیں ہوتی تو ان کو جانوروں کی طرح رکھا جاتا ہے اور جانوروں کے کوئی حقوق نہیں ہوتے، جانوروں کے معاشرے میں انصاف نہیں ہوتا بلکہ انسانوں کے معاشرے میں ہوتا ہے اور ہم سب اسی انصاف کے لیے نکلے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میری نظر میں کسی کی غلامی کرنے سے بہتر ہے انسان مر جائے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…