اسلام آباد (این این آئی)پاکستان میں پانچ سال یا اس سے کم عمر کے 40 فیصد سے زیادہ بچے نشوونما رکنے (اسٹنٹنگ) کا شکار ہیں ،25 لاکھ بچوں کو غذائیت کی شدید قلت کا سامنا ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق پاکستان ان اولین ممالک میں سے ایک تھا جس نے پائیدار ترقی کے عالمی اہداف (ایس ڈی جیز) کو اپنایا تاکہ بچپن میں نشونما کی رکاوٹ میں 40 فیصد کمی اور بچپن میں ضائع ہوجانے کو 5 فیصد سے کم برقرار رکھا جا سکے تاہم ان اہداف کے حصول کی طرف بہت کم پیش رفت ہوئی ہے۔پاکستان میں ڈبلیو ایچ او کی نمائندہ ڈاکٹر پالیتھا مہیپالا کے مطابق سہل طرز زندگی اور غیر صحت بخش خوراک کے باعث 10 سال سے کم عمر کے اسکول جانے والے بچوں میں سے تقریباً 6-8 فیصد موٹاپے یا زیادہ وزن کا شکار ہیں۔
پاکستان میں 40 فیصد بچے نشوونما رکنے 25 لاکھ غذائیت کی شدید قلت کا شکار
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
ابھیشیک شرما نے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں نیا عالمی ریکارڈ قائم کردیا
-
بلوچستان ڈوب رہا ہے(آخری حصہ)
-
ناناپاٹیکر کی موت کی وجہ کیا بنی؟ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں نئے انکشافات سامنے آگئے
-
سعودی عرب جانے والے پاکستانی مسافروں کے لیے اہم اعلان
-
چڑیا گھر میں ٹائیگر کے پنجرے میں داخل ہونے والا شخص ہلاک، انتظامیہ کا ٹائیگر کو زندہ رکھنے کا فیصلہ
-
ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں ایسا ریکارڈ قائم جو شاید کبھی نہ ٹوٹ سکے
-
گھر بیٹھے شناختی کارڈ پر تصویر اور مستقل پتہ تبدیل کروانے کا طریقہ
-
نانا پاٹیکر کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آگئی
-
لاہور: رشتہ ٹوٹنے کے رنج میں سابق منگیتر کی لڑکی سے زیادتی
-
معروف اینکر اقرار الحسن کو لاہور سے گرفتار کر لیا گیا
-
سیاسی جماعت کا استحکام پاکستان پارٹی میں ضم ہونے کا اعلان
-
حکومت نے پیٹرول سستا، ڈیزل مہنگا کرنے کا اعلان کردیا
-
پولیس کی 8 پی ٹی آئی رہنماؤں کو حفاظتی تحویل میں رکھنے کی تصدیق
-
عرفان پٹھان کو افغان کرکٹر راشد خان کے گھر دعوت کی ویڈیو مہنگی پڑگئی



















































