جمعہ‬‮ ، 09 جنوری‬‮ 2026 

ٹیکسوں کی بھرمار، استعمال شدہ کاروں کے درآمد کنندگان پھنس گئے

datetime 14  اکتوبر‬‮  2022 |

کراچی (این این آئی)حکومتی پالیسیوں اور ٹیکسوں میں تبدیلی کی وجہ سے درآمد کی گئی سیکڑوں گاڑیاں بندرگاہوں پر کھڑی کھڑی خراب ہورہی ہیں۔حکومت کی جانب سے استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کے حوالے سے گزشتہ چند ماہ میں ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں کے اسٹرکچر میں متعدد بار تبدیلی کی ہے جس کے نتیجے میں پرانی کاروں پر

ٹیکسز اور ڈیوٹیوں کی شرح میں اس حد تک غیر معمولی طور پر اضافہ ہوا ہے کہ باہر سے پرانی کاریں منگوانے والے بندرگاہوں پر کاریں پہنچنے کے باجود اپنی کاریں کلیر نہیں کر پارہے۔باہر سے استعمال شدہ گاڑیوں کے درآمد کنندگان کا کہنا ہے کہ بندگاہوں پر ایک ہزار سے زائد کاریں پھنس گئی ہیں جو کھڑی خراب ہورہی ہیں یہ گاڑیاں گزشتہ چار ماہ کے عرصے میں پہنچی ہیں۔اس ضمن میں آل پاکستان موٹر ڈیلرز ایسوسی ایشن کی جانب سے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو ایک لیٹر بھی ارسال کیا گیا ہے جس میں اس مسئلے کے حل میں تعاون کی درخواست کی گئی ہے۔ایسوسی ایشن کی جانب سے ارسال کئے گئے لیٹر میں کہا گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے درآمدات کی حوصلہ شکنی کے لئے جو اقدامات کئے ہیں اس میں استعمال شدہ گاڑیوں کا معاملہ مختلف ہے کیونکہ پرانی گاڑیوں کی ضمن میں ملک سے قیمتی زر مبادلہ باہر نہیں جاتا بلکہ بیرون ملک مقیم پاکستانی اپنے رشتہ داروں کو گاڑیاں گفٹ کے طور پر بھیجتے ہیں اور اس پر ٹیکسز اور ڈیوٹیوں کی ادائیگی بھی باہر سے ہی ڈالر میں کی جاتی ہے جس سے ڈالر باہر نہیں جاتے بلکہ ملک کے اندر آتے ہیں۔موٹر ڈیلرز کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے19اگست کو 800سی سی اور اس سے اوپر کی استعمال شدہ گاڑیوں پر 100فیصد سرچارج لگایا۔ 22 اگست کو 1800سی سی اور اس سے اوپر کی گاڑیوں پر ریگولیٹری ڈیوٹی 70 فیصد سے بڑھا کر 100فیصد کی گئی

اور 600 سی سی سے 1500سی سی تک کی کاروں پر ریگولیٹری ڈیوٹی جو پہلے صفر تھی اسے 100 فیصد کردی گئی اسی طرح ہائبرڈ اور الیکٹرک کاروں پر بھی 100 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کی گئی۔ اسی طرح ایڈیشنل کسٹم ڈیوٹی کی شرح بھی 7فیصد سے بڑھا کر 35فیصد تک کردی گئی ہے۔وفاقی وزیر خزانہ کو بھیجے گئے لیٹر میں کہا گیا ہے کہ استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد پر پہلے سے 90فیصدتا375فیصد ٹیکسزعائد ہیں

حالیہ سرچارج،ریگولیٹری ڈیوٹی اور ایڈیشنل کسٹم ڈیوٹی اس کے اوپر لگائے گئے ہیں جس کے نتیجے میں صورتحال ابتر ہوگئی ہے۔موٹر ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ایچ ایم شہزاد کے مطابق ملک میں نئی گاڑیوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں پرانی گاڑیوں سے کسی حد تک صارفین کو کم قیمت گاڑیاں مل رہی ہیں لیکن جس طرح ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں میں اضافہ کیا گیا ہے ا س سے آٹواسمبلرز کو من مانی کے لئے کھلا میدان مل گیا ہے جب کہ شہری بھی کم قیمت گاڑیوں سے محروم ہوگئے ہیں۔

موضوعات:



کالم



پرسی پولس


شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…