ثقلین مشتاق کو گھٹنے کے علاج کے لیے بھاری بل ادائیگی کا انکشاف

  اتوار‬‮ 25 ستمبر‬‮ 2022  |  14:46

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان کرکٹ بورڈ نے حال ہی میں قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ ثقلین مشتاق کے گھٹنے کے علاج کے لئے دس لاکھ روپے کا بھاری بل ادا کیا ہے۔بل کی ادائیگی قواعد کے برعکس ،غیر معمولی حالت میں دی گئی ۔روزنامہ جنگ میں عبدالماجد بھٹی کی خبر کے مطابق ماضی کے آف اسپنر نے غیر ملکی دوروں پر گھٹنے کی تکلیف کی شکایت کی تھی جس پر پاکستان ٹیم کے ڈاکٹر اور

چیف میڈیکل آفیسر نجیب سومرو نے بل منظور کرنے کی اجازت دی۔چیئرمین رمیز راجا نے چیف میڈیکل آفیسر کی جانب سے سفارش آنے کے بعد بل منظور کردیا ہے۔تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ کوچ کے علاج پر بھاری بل بورڈ نے ادا کیا ہے۔عام طور پر کھلاڑیوں کے علاج پر بھاری اخراجات آتے ہیں۔پی سی بی ترجمان نے  استفسار پر تصدیق کی کہ ثقلین مشتاق کو دس لاکھ روپے کی ادائیگی کردی گئی ہے۔ثقلین کو یہ رقم ادا کرنے کا استحقاق نہیں تھا لیکن چوں کہ وہ غیر ملکی دوروں پر کھلاڑیوں کو پریکٹس کراتے گھٹنے کی تکلیف میں مبتلا ہوئے تھے اس لئے انہیں بل کی ادائیگی کردی گئی۔دلچسپ بات یہ ہے آسٹریلیا سے آنے والے ڈاکٹر نجیب سومرو بھی پاکستان ٹیم کے ساتھ ہیں۔او ر ٹیم انتظامیہ کی سفارش پر وہ لاہور میں ہائی پرفارمنس سینٹر کے بجائے قو می ٹیم کے ساتھ ہیں۔ذمے دار ذرائع نے بتایا کہ ثقلین مشتاق وزن زیادہ ہونے کی وجہ سے گھٹنے کی تکلیف کا شکار ہیں۔بیٹرز کو تھرو ڈاون کراتے ہوئے گذشتہ دنوں ان کی تکلیف بڑھ گئی تھی۔ایشیا کپ کے دوران بھی ثقلین مشتاق گھٹنے کی تکلیف کی وجہ سے دو دن گراونڈ نہیں آسکے تھے۔ثقلین مشتا ق قومی ہائی پرفارمنس سینٹر سے منلک تھےستمبر میں رمیز راجا نے مصباح الحق کو سبکدوش کیا اور اس کے بعد سے ثقلین پاکستان ٹیم کے ہیڈ کوچ ہیں۔وہ اگلے سال اپریل تک کوچنگ کریں گے۔حال ہی میں پی سی بی نے فاسٹ بولر شاہین آفریدی کے علاج میں تاخیر کی اور شاہین اپنے ٹکٹ سے لندن پہنچے تھے۔جس کے بعد انہیں ادائیگی کردی گئی۔



موضوعات:

زیرو پوائنٹ

عاشق مست جلالی

میری اظہار الحق صاحب سے پہلی ملاقات 1994ء میں ہوئی‘ یہ ملٹری اکائونٹس میں اعلیٰ پوزیشن پر تعینات تھے اور میں ڈیلی پاکستان میں میگزین ایڈیٹر تھا‘ میں نے اس زمانے میں مختلف ادیبوں اور شاعروں کے بارے میں لکھنا شروع کیا تھا‘ اظہار صاحب نے تازہ تازہ کالم نگاری شروع کی تھی‘ان کی تحریر میں روانی‘ ادبی چاشنی اور ....مزید پڑھئے‎

میری اظہار الحق صاحب سے پہلی ملاقات 1994ء میں ہوئی‘ یہ ملٹری اکائونٹس میں اعلیٰ پوزیشن پر تعینات تھے اور میں ڈیلی پاکستان میں میگزین ایڈیٹر تھا‘ میں نے اس زمانے میں مختلف ادیبوں اور شاعروں کے بارے میں لکھنا شروع کیا تھا‘ اظہار صاحب نے تازہ تازہ کالم نگاری شروع کی تھی‘ان کی تحریر میں روانی‘ ادبی چاشنی اور ....مزید پڑھئے‎