اتوار‬‮ ، 11 جنوری‬‮ 2026 

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ وضع دار انسان ہیں، چیف جسٹس اسلام آبادہائیکورٹ کیخلاف چلائی جانیوالی مہم کا نوٹس لیا جائے فواد چوہدری

datetime 3  ستمبر‬‮  2022 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک، این این آئی )سابق وفاقی وزیر اور پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما فواد چوہدری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ چیف جسٹس سپریم کورٹ ایک سیاسی جماعت کے آلہ کار میڈیا گروپ کی طرف سے چیف جسٹس اسلام آباد کے خلاف چلائی جانیوالی مہم کا نوٹس کیں،چیف جسٹس اسلام آباد وضع دار انسان ہیں وہ درگزر

کریں گے لیکن یہ سپریم کورٹ کا فرض ہے کہ مثبت تنقید کا خیرمقدم کرے اور ادارے کو پرزہ رسائی سے محفوظ رکھے۔دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ اگر کوئی غلط بھی کہہ رہا ہے تو غلط بھی کہنے دیں،یہ عدالت (اسلام آباد ہائی کورٹ) توہین عدالت کے قوانین پر یقین نہیں رکھتی۔صحافیوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ مجھے وہ باتیں قابل احترام تین صحافی بتا رہے ہیں، جو خود مجھے بھی نہیں پتا، اگر کوئی ایسی چیز ہے بھی تو سامنے آکر مجھے بتا دیں،جو کہنا ہے کہتے رہیں، 3سال سے تنقید ہی اس عدالت کی طاقت ہے لیکن کوئی اثر انداز نہیں ہو سکتا،جو کچھ کسی نے کہنا ہو کہے، اس عدالت نے آزادی دی ہوئی ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ جس چیز کا مجھے علم نہیں ہے، اگر ان کو علم ہے تو بڑی خوشی کی بات ہے مجھے بھی بتا دیں،یہ عدالت کسی چیز سے گھبرانے والی نہیں ہے،آپ سمجھتے ہیں کہ یہ آزادی اظہار رائے ہے، میں پھر کہتا ہوں یہ اس عدالت کا احتساب ہے، اس عدالت نے نہ کسی کو اپروچ ہونے کی اجازت دی ہے نہ کسی سے رابطہ رکھا ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ خوشی اس بات کی ہے کہ ہر کوئی کمپین چلاتا ہے لیکن اس کورٹ پر کوئی اثر نہیں ہوتا،وقت کے ساتھ سچ خود بخود کھل کر سامنے آجاتا ہے، صحافی اپنے آپ سے پوچھیں کہ جو وہ کر رہے ہیں کیا وہ درست کر رہے ہے؟، کورٹ ہمیشہ فیصلوں سے پہچانی جاتی ہے،بیانیے بنتے ہیں، جتنا کرنا ہے کر لیں، عدالت نے وہی کرنا ہے جو کرتی آرہی ہے۔

لیکن اپنے آپ سے پوچھیں ہم اس ریاست کو کس طرف لے کر جارہے ہیں۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ باقیوں کو چھوڑیں، کیا صحافیوں کو یہ کام کرنا چاہیے ؟ 2018 سے اب تک جو کچھ ہوتا آ رہا ہے وہ دیکھ لیں،یہ کورٹ آپ کو کبھی نہیں روکے گی، جو کہنا ہے کہتے رہیں، یہ عدالت توہین عدالت کے قوانین پر یقین نہیں رکھتی، اگر کوئی غلط بھی کہہ رہا ہے تو غلط بھی کہنے دیں، فیک نیوز کا واحد حل یہ ہے کہmore speech، آج تک ہم آئین کو پوری طرح بحال نہیں کر سکے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا


والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…