پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

پاک فوج کو آج بھی افسوس ہے ہم نے عمران خان کیلئے دوتھری سٹار اور ایک فور سٹار جنرل کی قربانی دیدی جاوید چوہدری کا اپنے کالم میں انکشاف

datetime 7  اگست‬‮  2022 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر صحافی جاوید چوہدری اپنے آج کے کالم میں لکھتے ہیں کہ فوج پنجاب جیسے صوبے کو بزدار جیسے اناڑی کے ہاتھ میں نہیں دیکھنا چاہتی تھی لیکن وزیراعظم نہیں مانے اور یہ پونے چار سال اپنی ضد پر ڈٹے رہے‘ آرمی چیف اور جنرل فیض حمید دونوں انہیں بار بار سمجھاتے رہے‘ انہیں یہ تک بتایا گیا پنجاب میں آپ کی پارٹی ٹوٹ چکی ہے۔

آپ نے اگرصورت حال کنٹرول نہ کی توپنجاب کے ساتھ ساتھ وفاق بھی آپ کے ہاتھ سے نکل جائے گا‘ وزیراعظم کو کرپشن کے ثبوت بھی دیے گئے‘ اس زمانے میں لیفٹیننٹ جنرل سید عاصم منیر ڈی جی آئی ایس آئی تھے‘ انہوں نے مانیکا فیملی‘ فرح گوگی‘ احسن جمیل گجر اور عثمان بزدار کے معاملات‘ پیسے کے لین دین‘ تقرریوں میں کرپشن اور منی لانڈرنگ کی تمام تفصیلات ثبوتوں کے ساتھ وزیراعظم کو پیش کر دیں لیکن رپورٹ کو سیریس لینے کی بجائے وزیراعظم ڈی جی سے ناراض ہو گئے اور آرمی چیف سے ان کے تبادلے کا مطالبہ کر دیا‘ آرمی چیف نے انہیں سمجھایا‘ سر عاصم منیر کیریئر آفیسر ہیں‘ ان کی ایمان داری اور پروفیشنل ازم کی قسم کھائی جا سکتی ہے اور یہ ان کا فرض تھا یہ آپ کو ہر چیز مکمل ایمان داری سے بتاتے اور ا نہوں نے اپنافرض ادا کیا‘‘ لیکن وزیراعظم کا کہنا تھا یہ میرے گھر میں بدگمانی پھیلا رہے ہیں‘یہ خاتون اول کے دوستوں کو بدنام کر رہے ہیں‘ بہرحال وزیراعظم کے مطالبے پر جنرل عاصم منیر کوکورکمانڈر گوجرانوالہ تعینات کر دیا گیا‘ فوج کو آج بھی افسوس ہے ہم نے عمران خان کے لیے دوتھری سٹار اور ایک فور سٹار جنرل کی قربانی دے دی‘ تھری سٹار جنرلز میں لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر اور لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید اور فورسٹار جنرل قمر جاوید باجوہ ہیں‘یہ تینوں عمران خان کی وجہ سے بدنام بھی ہوئے اور ان کی ٹرولنگ بھی کی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…