ہفتہ‬‮ ، 24 جنوری‬‮ 2026 

عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان پہلا اختلاف کیوں اور کس کی وجہ سے ہوا؟اہم انکشافات

datetime 7  اگست‬‮  2022 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر صحافی و کالم نگار جاوید چوہدری اپنے آج کے کالم میں انکشاف کرتے ہیں کہ عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان پہلا اختلاف عثمان بزدار کی تعیناتی پر ہوا تھا‘ فوج پنجاب جیسے صوبے کو بزدار جیسے اناڑی کے ہاتھ میں نہیں دیکھنا چاہتی

تھی لیکن وزیراعظم نہیں مانے اور یہ پونے چار سال اپنی ضد پر ڈٹے رہے‘ آرمی چیف اور جنرل فیض حمید دونوں انہیں بار بار سمجھاتے رہے‘ انہیں یہ تک بتایا گیا پنجاب میں آپ کی پارٹی ٹوٹ چکی ہے‘آپ نے اگرصورت حال کنٹرول نہ کی توپنجاب کے ساتھ ساتھ وفاق بھی آپ کے ہاتھ سے نکل جائے گا‘ وزیراعظم کو کرپشن کے ثبوت بھی دیے گئے‘ اس زمانے میں لیفٹیننٹ جنرل سید عاصم منیر ڈی جی آئی ایس آئی تھے‘ انہوں نے مانیکا فیملی‘ فرح گوگی‘ احسن جمیل گجر اور عثمان بزدار کے معاملات‘ پیسے کے لین دین‘ تقرریوں میںکرپشن اور منی لانڈرنگ کی تمام تفصیلات ثبوتوں کے ساتھ وزیراعظم کو پیش کر دیں لیکن رپورٹ کو سیریس لینے کی بجائے وزیراعظم ڈی جی سے ناراض ہو گئے اور آرمی چیف سے ان کے تبادلے کا مطالبہ کر دیا‘ آرمی چیف نے انہیں سمجھایا‘ سر عاصم منیر کیریئر آفیسر ہیں‘ ان کی ایمان داری اور پروفیشنل ازم کی قسم کھائی جا سکتی ہے اور یہ ان کا فرض تھا یہ آپ کو ہر چیز مکمل ایمان داری سے بتاتے اور ا نہوں نے اپنافرض ادا کیا‘‘ لیکن وزیراعظم کا کہنا تھا یہ میرے گھر میں بدگمانی پھیلا رہے ہیں‘یہ خاتون اول کے دوستوں کو بدنام کر رہے ہیں‘ بہرحال وزیراعظم کے مطالبے پر جنرل عاصم منیر کوکورکمانڈر گوجرانوالہ تعینات کر دیا گیا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا(دوم)


مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…