آئی ایم ایف کی شرائط پر عملدرآمد میں تیزی یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھاری اضافے کی تیاریاں

  منگل‬‮ 28 جون‬‮ 2022  |  11:21

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) حکومت یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر 10 روپے لیوی عائد کرنے پر غور کررہی ہے۔ نان ٹیکس آمدنی کے لیے حکومت ، جی ایس ٹی کے بجائے پٹرولیم لیوی عائد کرنے کو ترجیح دے رہی ہے۔ روزنامہ جنگ میں مہتاب حیدر کی شائع خبر کے

مطابق، آئی ایم ایف سے اسٹاف سطح معاہدے کے لیے حکومت یکم جولائی، 2022 سے پٹرولیم مصنوعات پر 10 روپے فی لیٹر پٹرولیم لیوی عائد کرنے پر غور کررہی ہے۔ تاہم، جولائی، 2022 میں پٹرولیم مصنوعات پر کوئی جی ایس ٹی عائد نہیں کی جائے گی اور یہ فی الوقت صفر ہی رہے گی۔ موجودہ حکومت کی جانب سے یہ ایک اچھا اور دلچسپ منصوبہ بنایا گیا ہے، جس کی تجویز وزارت خزانہ ، وزیر اعظم شہباز شریف کو دے گا۔حکومت نے جی ایس ٹی کے بجائے پٹرولیم لیوی عائد کرنے کو ترجیح دی ہے، جس کی معقول وجوہات ہیں ، جیسا کہ وفاقی حکومت نان ٹیکس آمدنی، لیوی کے ذریعے حاصل کرنا چاہتی ہے، یہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت وفاقی قابل تقسیم پول (ایف ڈی پی) کا حصہ نہیں بنے گا۔ وزارت خزانہ نے 50 روپے فی لیٹر پٹرولیم لیوی عائد کرنے کی تجویز دی تھی ، تاہم، ایسا اس لیے نہیں ہوسکا کیوں کہ حالیہ ہفتوں میں پٹرولیم مصنوعات پر پہلے ہی تاریخی اضافہ کیا جاچکا ہے۔ 27 مئی، 2022 سے اب تک پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 100 روپے فی لیٹر تک اضافہ کیا جاچکا ہے۔ حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرکے فیول سبسڈیز ختم کرچکی ہے اور اب آئی ایم ایف نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسز بھی عائد کرے۔ آئی ایم ایف مطالبات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے جولائی 2022 سے شروع ہونے والے مالی سال میں مرحلہ وار پٹرولیم لیوی جمع کرنے کے طریقہ کار پر غور کررہی ہے۔



موضوعات:

زیرو پوائنٹ

سانو۔۔ کی

سانو ۔۔کی پنجابی زبان کا ایک محاورہ یا ایکسپریشن ہے‘ اس کا مطلب ہوتا ہے ہمیں کیا فرق پڑتا ہے‘ ہمارے باپ کا کیا جاتا ہے‘ ہمارا کیا نقصان ہے یاپھر آئی ڈونٹ کیئر‘ ہم پنجابی لوگ اوپر سے لے کر نیچے تک اوسطاً دن میں تیس چالیس مرتبہ یہ فقرہ ضرور دہراتے ہیں لہٰذا اس کثرت استعمال کی وجہ ....مزید پڑھئے‎

سانو ۔۔کی پنجابی زبان کا ایک محاورہ یا ایکسپریشن ہے‘ اس کا مطلب ہوتا ہے ہمیں کیا فرق پڑتا ہے‘ ہمارے باپ کا کیا جاتا ہے‘ ہمارا کیا نقصان ہے یاپھر آئی ڈونٹ کیئر‘ ہم پنجابی لوگ اوپر سے لے کر نیچے تک اوسطاً دن میں تیس چالیس مرتبہ یہ فقرہ ضرور دہراتے ہیں لہٰذا اس کثرت استعمال کی وجہ ....مزید پڑھئے‎