ہاں میں نے سپاٹ فکسنگ کی تھی کرکٹرخالد لطیف کا اعتراف

  اتوار‬‮ 22 مئی‬‮‬‮ 2022  |  13:05

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان سپر لیگ اسپاٹ فکسنگ کیس میں شرجیل خان کے بعد خالد لطیف نے بھی اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے پاکستان کرکٹ بورڈ سے ری ہیب کی درخواست کردی ہے۔ انہوں نے غلطی تسلیم کرتے ہوئے پی سی بی سےمعافی مانگ لی ہے۔ امکان ہے کہ پی سی بی کا اینٹی کرپشن یونٹ آئندہ ہفتے ان کا ری ہیب پروگرام شروع کرے گا۔ روزنامہ جنگ میں عبدالماجد بھٹی کی

خبر کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ انٹر نیشنل کرکٹر خالد لطیف نے تحریر ی طور پر اینٹی کرپشن یونٹ سے ری ہیب کی درخواست کی ہے۔ انہیں بھی سلمان بٹ، محمد عامر، شرجیل خان اور دیگر کرپشن میں ملوث کھلاڑیوں کی طرح ری ہیب پروگرام میں جانا ہوگا۔2017 میں خالد لطیف اور شرجیل خان نے پاکستان سپر لیگ میں اسلام آباد یونائیٹڈ کی جانب سے کھیلتے ہوئے اسپاٹ فکسنگ کی تھی۔ واضح رہے کہ خالد لطیف کو پاکستان سپر لیگ کے دوسرے ایڈیشن کے دوران اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں ملوث ہونے پر پی سی بی نے 5 سال کے لیے کرکٹ کھیلنے پر پابندی اور10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ خالد لطیف نے اسپاٹ فکسنگ کی تحقیقات کرنے والے ٹریبونل کے دائرہ احتیار کو بھی چیلنج کیا تھا۔ دسمبر 2021سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران خالد لطیف نے موقف اختیار کیا کہ انھیں اسپاٹ فکسنگ کیس میں 5 سال کی پابندی کی سزا ملی تھی جو کہ 10 فروری کو ختم ہوجائے گی اس لیے میں اپنی اپیل واپس لینا چاہتا ہوں۔پی سی بی ذرائع کا کہنا ہے کہ خالد لطیف نے غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے معافی نامہ دیا ہے۔انہیں چیریٹی کا کام کرنے پڑے گا۔نوجوان کرکٹرز کو لیکچرز دیتے ہوئے ندامت کا اظہار کرنا ہوگا۔ری ہیب سے گذرنے کے بعد ان کی کرکٹ میں واپسی ممکن ہوسکے گی۔امکان ہے کہ خالد لطیف ری ہیب پراسس سے گذرنے کے بعد اکتوبر نومبر میں کرکٹ سسٹم میں واپس آسکیں گے۔



موضوعات:

زیرو پوائنٹ

گنجائش بھی باقی نہیں

یہ فیصلہ مشکل ہوتا جا رہا ہے عمران خان زیادہ ناکام ہیں یا اتحادی حکومت لیکن یہ بہرحال طے ہے عمران خان سے تحریک نہیں چل رہی اور حکومت سے معیشت لہٰذا اس وقت دونوں ناکام نظر آ رہے ہیں۔ ہم سب سے پہلے عمران خان کے المیے کی طرف آتے ہیں‘ عمران خان ایٹمی پروگرام کے بعد پاکستانی اسٹیبلشمنٹ ....مزید پڑھئے‎

یہ فیصلہ مشکل ہوتا جا رہا ہے عمران خان زیادہ ناکام ہیں یا اتحادی حکومت لیکن یہ بہرحال طے ہے عمران خان سے تحریک نہیں چل رہی اور حکومت سے معیشت لہٰذا اس وقت دونوں ناکام نظر آ رہے ہیں۔ ہم سب سے پہلے عمران خان کے المیے کی طرف آتے ہیں‘ عمران خان ایٹمی پروگرام کے بعد پاکستانی اسٹیبلشمنٹ ....مزید پڑھئے‎