بارش برسانے والا سسٹم لاہور میں داخل

  ہفتہ‬‮ 21 مئی‬‮‬‮ 2022  |  17:59

لاہور( این این آئی )بارش برسانے والا سسٹم آج لاہور میں داخل ہوگا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق یہ سلسلہ چارپانچ روز رہے گا ۔لاہور سمیت پنجاب کے بیشتر اضلاع میں ہلکی بارش اورتیز ہوائیں چلنے کا امکان ہے ۔بارش سے گرمی کی شدت میں کمی ہوگی۔دوسر ی جانب تربیلا، منگلا اور چشمہ کے آبی ذخائر میں پانی کی آمد و اخراج ، ان کی سطح

اور بیراجوں میں پانی کے بہائو کی صورت حال حسب ذیل رہی۔ دریائے سندھ میں تربیلاکے مقام پرآمد 80300کیوسک اور اخرج 95000کیوسک، دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پرآمد28600 کیوسک اور اخراج28600کیوسک، جہلم میں منگلاکے مقام پرآمد31100کیوسک اور اخراج34100کیوسک، چناب میں مرالہ کے مقام پرآمد23000کیوسک اور اخراج 13000کیوسک رہا۔ جناح بیراج آمد105800کیوسک اور اخراج 98300کیوسک،چشمہ آمد124500کیوسک اوراخراج 115000کیوسک، تونسہ آمد115000کیوسک اور اخراج88100 کیوسک، پنجند آمد9300کیوسک اور اخراج صفر کیوسک،گدو آمد59300کیوسک اور اخراج54400 کیوسک،سکھر آمد44000کیوسک اور اخراج16500 کیوسک جبکہ کوٹری بیراج آمد5600کیوسک اور اخراج 100کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔تربیلا کا کم از کم آپریٹنگ لیول 1392فٹ،پانی کی موجودہ سطح1404.20 فٹ،پانی ذخیرہ کرنے کی انتہائی سطح 1550فٹ اورقابل استعمال پانی کا ذخیرہ 0.084 ملین ایکڑ فٹ، منگلا کا کم از کم آپریٹنگ لیول 1050فٹ،پانی کی موجودہ سطح 1084.45 فٹ،پانی ذخیرہ کرنے کی انتہائی سطح 1242فٹ اور قابل استعمال پانی کا ذخیرہ 0.181 ملین ایکڑ فٹ جبکہ چشمہ کا کم از کم آپریٹنگ لیول 638.15فٹ،پانی کی موجودہ سطح641.10 فٹ،پانی ذخیرہ کرنے کی انتہائی سطح 649 فٹ اور قابل استعمال پانی کا ذخیرہ 0.042 ملین ایکڑ فٹ رہا۔تربیلا اور چشمہ کے مقامات پر دریائے سندھ، نوشہرہ کے مقام پر دریائے کابل اور منگلا کے مقام پر دریائے جہلم میں پانی کی آمد اور اخراج 24گھنٹے کے اوسط بہائو کی صورت میں ہے ۔



موضوعات:

زیرو پوائنٹ

گنجائش بھی باقی نہیں

یہ فیصلہ مشکل ہوتا جا رہا ہے عمران خان زیادہ ناکام ہیں یا اتحادی حکومت لیکن یہ بہرحال طے ہے عمران خان سے تحریک نہیں چل رہی اور حکومت سے معیشت لہٰذا اس وقت دونوں ناکام نظر آ رہے ہیں۔ ہم سب سے پہلے عمران خان کے المیے کی طرف آتے ہیں‘ عمران خان ایٹمی پروگرام کے بعد پاکستانی اسٹیبلشمنٹ ....مزید پڑھئے‎

یہ فیصلہ مشکل ہوتا جا رہا ہے عمران خان زیادہ ناکام ہیں یا اتحادی حکومت لیکن یہ بہرحال طے ہے عمران خان سے تحریک نہیں چل رہی اور حکومت سے معیشت لہٰذا اس وقت دونوں ناکام نظر آ رہے ہیں۔ ہم سب سے پہلے عمران خان کے المیے کی طرف آتے ہیں‘ عمران خان ایٹمی پروگرام کے بعد پاکستانی اسٹیبلشمنٹ ....مزید پڑھئے‎