بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

فواد چوہدری کا دعویٰ غلط نکلا شہباز حکومت کو اب بھی 174 ارکان کی حمایت حاصل

datetime 18  مئی‬‮  2022 |

اسلام آباد ( مانیٹرنگ ڈیسک ٗ این این آئی) روزنامہ جنگ میں طاہر خلیل کی خبر کے مطابق پارلیمانی ذرائع نے پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری کے اس دعوے کو غلط قرار دیا ہے کہ قومی اسمبلی میں ن لیگ کے 3 ارکان ساتھ چھوڑ چکے اور قومی اسمبلی میں شہباز حکومت کے پاس 171 ووٹ رہ گئے جبکہ حکومت بنانے اور اعتماد کا ووٹ لینے کیلے کم سے کم 172 ووٹ ہونا ضروری ہیں۔

10 اپریل کو عمران خان کیخلاف عدم اعتماد تحریک میں شہباز شریف کے پاس 174 ووٹ تھے۔دوسری جانب قانونی ماہر سلما ن اکرم راجہ نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے بعد اس صورتحال نے جنم لیا ہے کہ کوئی بھی رکن اسمبلی پارٹی کی ہدایت کے خلاف تحریک عدم اعتماد، بجٹ یا آئینی ترامیم میں ووٹ نہیں دے سکتے ۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے قانونی ماہر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس کے فیصلے کے بعد اب اس صورتحال نے جنم لیا ہے کہ کوئی بھی رکن اسمبلی پارٹی کی ہدایت کے خلاف تحریک عدم اعتماد، بجٹ یا آئینی ترامیم میں ووٹ نہیں دے سکتے کیونکہ ان کا ووٹ شمار ہی نہیں ہوگا۔انہوںنے کہاکہ تحریک عدم اعتماد اب اسی صورت ممکن ہے جب ایک مخلوط حکومت ہو جیسے عمران خان کی تھی اور اتحادی اپوزیشن کے ساتھ مل جائیں۔ماہر قانون سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں ہی اب آئین کے آرٹیکل 63 اے کو پڑھا و سمجھا جائیگا،گورنر پنجاب اب وزیر اعلیٰ کو اعتماد کا ووٹ لینے کا کہہ سکتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ اب یہ کہا جاسکتا ہے کہ وزیر اعلیٰ کا انتخاب، جس میں حمزہ شہباز کو فتح حاصل ہوئی، میں منحرف ارکان کے ووٹ شمار نہیں ہوں گے،ان کے مطابق اب وزیر اعلیٰ کا انتخاب دوبارہ ہوسکتا ہے اور معاملہ عدالت میں بھی جاسکتا ہے۔ان کے مطابق اگر 26 منحرف ارکان ڈی سیٹ ہوتے ہیں تو کوئی امیدوار اکثریت حاصل نہیں کر سکے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…