جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

پولیس نے چادراور چار دیواری کا تقدس پامال کر دیا،گھر میں گھس کر خواتین پر تشدد

datetime 15  مئی‬‮  2022
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

میانوالی(این این آیی)پپلاں پولیس کی طرف سے تحصیل باونژری پرواقع گائوں یاری والا تحصیل کلور کوٹ میں چادر, چاردیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے اپنے تھانہ کی حدود سے باہر رات 12بجے گھرمیں گھس کرخواتین پرتشدد کرنے اور بغیرکسی درخواست یا مقدمہ کے غریب شہریوں کو گرفتارکرنے اور تشددکرنے پرمتاثرہ فریق میڈیا کے سامنے سراپااحتجاج۔ وزیراعلی پنجاب میاں حمزہ شہباز

انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب سے پولیس کے خلاف کاروائی کی اپیل۔عدالت میں بھی پولیس کے خلاف رٹ دایر۔نواحی گائوں یاری والا تحصیل کلورکوٹ کے رہایشی شہری محمد عمران ولد محمد رمضان مسلم شیخ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایس ایچ او پپلاں سب انسپکٹر محمد طارق گوندل اور ASI وسیم اکبر خان انچارج سی آئی اور تین نامعلوم پولیس ملازمان کے خلاف ایڈیشنل انسپکٹر جنرل(ڈسپلن)پنجاب پولیس کو کاروائی کے لیے ایک درخواست دے دی۔اس نے اپنی درخواست میں الزام لگایا کہ وہ پڑھا لکھا اور شریف شہری ہے اورنجی سکول میں ٹیچر ہے اپنی فیملی کے ہمراہ رات کو اپنے گھر میں موجود تھا کہ مورخہ 19اپریل رات بارہ بجے تھانہ پپلاں کے مزکورہ پولیس افسران اورملازمان بغیرکسی وارنٹ یا زنانہ پولیس کے چادراورچار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہویے اپنے تھانہ کی حدود سے باہرہمارے گھر میں زبردستی گھس گیے اور میری والدہ مسماۃ افرانہ بی بی اور میری بھابھی شگفتہ زوجہ شہزاد کوتشدد کا نشانہ بنایا اورانکے کپڑے پھاڑدییے جبکہ مجھے اورمیرے بھائیوں محمد عمران, محمدرضوان, محمد بلال اورشہزادکو پکڑ کر زبردستی سرکاری گاڑی میں بٹھا کر لے گئے اورمسلسل دو دن تک ہم پرتشدد کرتے رہے اوررقم کا تقاضہ کرتے رہے۔ہمارے حقیقی والد اورچچا گل جہان نے کچھ معززین علاقہ کے ہمراہ پولیس کی منت سماجت کی کہ

ہمارے خلاف کسی بھی تھانہ میں کوئی ایف آئی آردرج نہیں نہ ہم نے کویی جرم کیا ہے تو کس جرم میں ہمیں بے گناہ پکڑ کرحبس بے جا میں رکھا ہوا ہے تو ایس ایچ او پپلاں محمد طارق گوندل اور اے ایس آیی سی آیی اے وسیم اکبرخان نے ان سے سادہ کاغذ پردستخط کروا کے ہماری جان چھوڑی اور یہ شرط رکھی کہ وہ انکے خلاف کسی قسم کی کویی قانونی یا محکمانہ کاروایی نہیں کریں گے۔انہوں نے کہا کہ پولیس نے مقامی زمیندار کی ایما پرہمیں ناجایزتشدد کا نشانہ بنایا اورغیر قانونی حبس بیجا میں رکھا

ہمارا قصوراتنا ہے کہ ہم مسلم شیخ ہیں اورہمارے والد نے محنت مزدوری کرکے ہم سب کو پڑھا لکھا کراچھی تعلیم دلوایی ہم کسی وڈیرے کی غلامی اوراجارہ داری کو تسلیم نہیں کرتے اوراس گاوں کے مقامی زمیندار پٹھان ہیں جو ہم جیسے لوگوں کوکمتر حقیراور غلام سمجھتے ہیں محمد عمران نے وزیراعلی پنجاب اور آیی جی پولیس پنجاب سیاپیل کی کہ اپنے عہدہ اختیار اوروردی کا ناجایز استعمال کرکے ہمارے خلاف اس طرح غیر قانونی طور پر کاروایی کرنے والے پپلاں پولیس افسران اور ملازمان کے خلاف پولیس آرڈر 2002 اورپیڈا ایکٹ کی کاروایی کی جائے اورانکو فوری معطل کرکے واقعہ کی تحقیقات کی جائے اورہمیں انصاف اورتحفظ فراہم کیا جائے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…