جمعرات‬‮ ، 20 اگست‬‮ 2026 

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کا فواد چوہدری کو قومی اسمبلی جانے کا مشورہ

datetime 12  مئی‬‮  2022 |

اسلام آباد (این این آئی)اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے ہیں کہ 9 اپریل کو تجزیہ کاروں نے اپنے تجزیوں سے مارشل لا لگا دیا تھا، میڈیا فوجی گاڑیاں اور ہیلی کاپٹر دکھا رہا تھا۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے صحافی کی ایف آئی اے کی جانب

سے ہراساں کرنے کے خلاف درخواست کی سماعت کی۔ نجی چینل کے بیوروچیف پیش نہیں ہوئے۔وکیل فیصل چوہدری ایڈووکیٹ نے کہا کہ صحافی سعودی عرب سے واپس نہیں آ رہے، انہیں خدشہ ہے کہ ان کو گرفتار کیا جا سکتا ہے۔عدالت نے ڈائریکٹر ایف آئی اے کو اختیارات کا غلط استعمال نا کرنے کا حکم دیدیا۔نجی ٹی وی کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ 9 اپریل کی ٹرانسمیشن دیکھیں، سارے تجزیہ کاروں نے اپنے تجزیوں سے اس دن تو مارشل لا ہی نافذ کر دیا تھا، میڈیا آرمی کی گاڑیاں اور ہیلی کاپٹر دکھا رہا تھا، میں گھر پر بیٹھا تھا اور ٹی وی پر چل رہا تھا کہ چیف جسٹس عدالت پہنچ گئے۔صدر پی ایف یو جے نے کہا کہ ہر حکومت ایف آئی اے کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرتی ہے اور یہ گورنمنٹ بھی کریگی، ہم چاہتے ہیں کہ پٹیشن نمٹانے کے بجائے ملتوی رکھی جائے تاکہ ہماری بھی تسلی رہے۔چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے فواد چوہدری سے کہا کہ آپ بطور رکن اسمبلی ڈی نوٹیفائی نہیں ہوئے ، تجویز ہے اسمبلی ہی جا کر توہین مذہب اور ایف آئی اے کارروائیوں جیسے معاملات حل کروائیں۔فواد چوہدری نے جواب دیا کہ مقبوضہ اسمبلی میں جا کر کیا کریں ، الیکشن کے بعد ہی اس میں بیٹھیں گے۔سماعت کے بعد بھی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ میں کہہ چکا ہوں مقبوضہ اسمبلی واپس نہیں جائیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…