جمعرات‬‮ ، 29 جنوری‬‮ 2026 

راول چوک فلائی اوور منصوبہ یکم ستمبر تک مکمل کیا جائے ،وزیراعظم شہباز شریف کاتاخیر کا سبب بننے والی کمپنیوں کو بلیک لسٹ کرنے کاحکم

datetime 17  اپریل‬‮  2022 |

اسلام آباد (این این آئی) وزیر اعظم شہباز شریف نے ہدایت کی ہے کہ راول چوک فلائی اوور منصوبہ یکم ستمبر تک مکمل کیا جائے ، منصوبہ کی لینڈ سکیپنگ کی جائے اور تاخیر کا سبب بننے والی کمپنیوں کو بلیک لسٹ کیا جائے۔ان خیالات کا اظہار وزیراعظم محمد شہبازشریف نے ہفتہ کی صبح راول چوک فلائی اوور منصوبہ کا دورہ کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وزیراعظم کو منصوبہ پر تفصیلی بریفننگ بھی دی گئی۔

وزیراعظم شہبازشریف نے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں تاخیر پر تاسف کا اظہار کرتے ہوئے ان کی بروقت اور جلد ازجلد تکمیل کی ہدایت کی۔انہوں نے کہاکہ ترقیاتی منصوبوں میں تھرڈ پارٹی ویلی ڈیشن کو یقینی بنایا جائے اور منصوبوں کی تکمیل میں تاخیر کا سبب بننے والی کمپنیوں کو بلیک لسٹ کیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ قومی وسائل کے ضیاع اور ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔پراجیکٹ انتظامیہ کی جانب سے بریفنگ میں وزیراعظم شہبازشریف کو بتایا گیا کہ راول چوک فلائی اوور منصوبہ میں بلاوہ جہ تاخیر کی گئی تاکہ اس کی لاگت کو بڑھایا جاسکے تاہم وفاقی دارالحکومت میں دیگر منصوبہ جات کے کنٹریکٹ ایف ڈبلیو او اور این ایل سی کو دیئے گئے ہیں تاکہ ان کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جاسکے۔وزیراعظم شہبازشریف نے ہدایت کی کہ ترقیاتی منصوبوں کو بروقت مکمل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی ماہ سے میں جب بھی اسلام آباد آیا تو ترقیاتی منصوبوں کی سست روی کو دیکھ کر افسوس ہوا۔ اس حوالہ سے متعلقہ حکام کو خصوصی توجہ دینا ہو گی کیونکہ غریب قوم کے پیسہ کے ضیاع کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ احساس ذمہ داری کو یقینی بنایا جائے، تھرڈ پارٹی ویلی ڈیشن کو یقینی بنا کر منصوبوں کی شفافیت کو یقینی بنایا جائے اس حوالہ سے کسی قسم کی رعایت نہیں کی جائے گی۔ وزیراعظم نے راول چوک فلائی اوور منصوبہ کی

تھرڈ پارٹی ویلی ڈیشن کو ہدایت کرتے ہوئے کمیٹی تشکیل دینے کا حکم دیا اور کہا کہ اس کی انکوائری کرائی جائے تاکہ تاخیر کے اسباب معلوم کئے جاسکیں اور ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا دی جاسکے۔ وزیراعظم نے منصوبہ کی تاخیر پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک چھوٹا منصوبہ بھی دو سال میں مکمل نہ ہو سکا جبکہ اس عرصہ میں تو میگا پراجیکٹ مکمل ہو سکتے ہیں۔وزیراعظم شہبازشریف نے منصوبہ کی لینڈ سکیپنگ

کے بارے میں بھی پوچھا اور کہاکہ اس کی لینڈ سکیپنگ کو بھی یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے منصوبہ کو یکم ستمبر 2022تک لازمی مکمل کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ منصوبہ کی کوالٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔واضح رہے کہ راول چوک فلائی اوور منصوبہ کا آغاز اکتوبر 2020میں ہوا تھا اور اس کو دو سال میں مکمل ہونا تھا۔ منصوبہ کی تاخیر کی وجوہات کو ختم کرتے ہوئے اس کو بروقت مکمل کیا جائے۔ وزیراعظم شہبازشریف ترقیاتی منصوبوں کی تاخیر کوبرداشت نہیں کرتے اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نے منصوبہ کی تاخیر پر برہمی کا اظہار کیا۔ منصوبہ پر 48فیصد کام ہو چکا ہے۔

موضوعات:



کالم



کاشان میں ایک دن


کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…