جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

جوش خطابت میں شہباز شریف دل کو’ ‘دماغ ” اور دماغ کو ”دل ”کہہ گئے

datetime 10  اپریل‬‮  2022
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (این این آئی)جوش خطابت میں شہباز شریف دل کو ‘دماغ ‘ اور دماغ کو ‘دل ‘کہہ گئے۔گزشتہ روز پارلیمنٹ کے ایک طویل اجلاس کے بعد با لآخر اپوزیشن سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ کرانے میں کامیاب ہو گئی اس دوران اجلاس میں کہیں لمبے لمبے وقفے تو کہیں ارکان کی لمبی لمبی تقریریں دیکھنے

میں آئیں، وقفوں کے دوران کہیں کوئی رکن اسمبلی سوتا تو کہیں کوئی خوش گپیوں میں مصروف دکھائی دیا تاہم گزشتہ روز کے اجلاس کے دوران اپوزیشن رہنما اور نئے وزیراعظم کیلئے متوقع امیدوار شہباز شریف کی بھی ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں انھیں جوش خطابت میں دل کو دماغ اور دماغ کو دل کہتے دیکھا جا سکتا ہے۔خیال رہے کہ قومی اسمبلی میں وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوگئی جس کے بعد وہ ملک کے وزیراعظم نہیں رہے اور ساتھ ہی عدم اعتماد کے ذریعے ہٹائے جانے والے ملک کے پہلے وزیراعظم بن گئے۔علاوہ ازیں متحدہ اپوزیشن کی جانب سے زیراعظم کے امیدوار شہباز شریف نے کہا ہے کہ بھارت کے ساتھ امن کے خواہاں ہیں،مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر امن ممکن نہیں،قومی ہم آہنگی ہماری میری پہلی ترجیح ہے اور نئی کابینہ کی تشکیل اپوزیشن رہنماوں کی مشاورت کے ساتھ ہو گی،کوشش ہوگی کہ ملکی معیشت بہتر کر کے عوام کو ریلیف دے سکیں۔

ملک میں نئے دور کا آغاز کریں گے اور باہمی احترام کو فروغ دیں گے،نواز شریف کے کیسز قانون کے مطابق دیکھے جائیں گے۔شہبازشریف نے کی میڈیا سے غیر رسمی خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے ساتھ امن کے خواہاں ہیں لیکن مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر امن ممکن نہیں۔انہوں نے کہاکہ قومی ہم آہنگی ہماری میری پہلی ترجیح ہے اور نئی کابینہ کی تشکیل اپوزیشن رہنماوں کی مشاورت کے ساتھ ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ کوشش ہوگی کہ ملکی معیشت بہتر کر کے عوام کو ریلیف دے سکیں، ملک میں نئے دور کا آغاز کریں گے اور باہمی احترام کو فروغ دیں گے۔جب شہباز شریف سے سوال کیا گیا کہ میاں نوازشریف کب واپس آئیں گے اور ان کے کیسزکا کیا بنے گا تو انہوں نے جواب دیا کہ میاں نواز شریف کے کیسز قانون کے مطابق دیکھے جائیں گے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…