پیر‬‮ ، 12 جنوری‬‮ 2026 

تحریک عدم اعتماد میں پیسوں کا عمل دخل ہے تو مجرم ہوں، شہباز شریف

datetime 16  مارچ‬‮  2022 |

اسلام آباد (این این آئی)قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہبازشریف نے وزیراعظم عمران خان کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ تحریک عدم اعتمادمیں کوئی پیسوں کاعمل دخل ہے تو مجرم ہوں۔جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا تھا کہ تین چوہے میرا شکار کرنے نکلے ہیں، سوات کے لوگوں کو کہتا ہوں میں ان تینوں کا شکار کروں گا، کچھ لوگ سندھ ہاؤس میں نوٹوں کی بوریاں لے کر بیٹھے ہیں،

سندھ کے عوام کا پیسہ لے کر ہمارے ایم این ایز خریدنے آئے ہیں، سیاست دانوں کے ضمیر کی قیمت 20،20 کروڑ لگا دی گئی ہے، ان کو پتا ہے عمران خان تھوڑی دیر اور رہ گیا تو ان سب نے جیلوں میں جانا ہے، الیکشن کمیشن بتائے کیا اس ہارس ٹریڈنگ کی آئین میں اجازت ہے؟ایک انٹرویو میں شہبازشریف نے کہا کہ عدم اعتماد ہمارا حق ہے ثابت کر دیں ہم لوگوں کو پیسے دے رہے ہیں،اگر تحریک عدم اعتمادمیں کوئی پیسوں کاعمل دخل ہے تو مجرم ہوں،ہم چاہتے ہیں ارکان جائیں اورپرامن طریقے سے عدم اعتماد پر ووٹ کریں حکومت سے لڑائی کیلئے نہیں ارکان کی حفاظت کیلئے لوگ لائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ن لیگ کوموقع ملے توقومی حکومت بنانی چاہیے قومی حکومت میں پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو شامل کرنا چاہیے قومی حکومت کو5سال عوام کی خدمت کرنیکاموقع ملناچاہیے عدم اعتمادکے بعدپارٹی کی سوچ ہے الیکشن میں جانا چاہیے یہی سوچ ہے الیکشن کے بعدضروری قانون سازی کی جائے۔شہبازشریف نے کہا کہ ہمارے ارکان اپنی حفاظت کیلئے بندیساتھ لائیں گے،ہمیں دھمکیاں دی جارہی ہیں ہم بندیساتھ نہ لائیں تو اور کیا کریں وزیراعظم کو پہلے ان ہاؤس آرڈر کرنا چاہیے یہ کہنے کی کیاضرورت تھی کہ ایبسلوٹلی ناٹ ہمیں کمیٹی میں بتایا گیا امریکا نے اڈیمانگے ہی نہیں تھے۔انہوں نے کہاکہ سیاست میں آج کے دوست کل کے مخالفت ہوجاتے ہیں کوشش ہے،ق لیگ،ایم کیوایم،بی ایپی کوبھی قائل کرسکیں، شہزاد اکبر نے پلندے جمع کرائے برطانیہ میں تحقیقات کرائیں آخر میں مجھے کلین چٹ دی گئی احتساب کا بیانیہ ناکام ہوا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا


والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…