جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

اتنی محنت سے حاصل کیا گیا امن نااہل حکومت کے ہاتھوں پھر سے تباہ ہونے کی طرف جارہا ہے، مولانا فضل الرحمان کا پشاور دھماکے پر ردعمل

datetime 4  مارچ‬‮  2022
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (این این آئی، آن لائن)جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے پشاور دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ اتنی محنت سے حاصل کیا گیا امن اس نااہل حکومت کے ہاتھوں پھر سے تباہ ہونے کی طرف جارہا ہے۔ اپنے بیان میں مولانا فضل الرحمن نے پشاور دھماکے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس اور لواحقین سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے مرحومین کی مغفرت اور زخمیوں کی صحتیابی کی دعا کی۔

انہوں نے کہا کہ یہ حکومت امن و امان برقرار رکھنے میں ناکام ہوگئی ہے اور اتنی محنت سے حاصل کیا گیا امن اس نااہل حکومت کے ہاتھوں پھر سے تباہ ہونے کی طرف جارہا ہے۔صوبائی وزیر کامران بنگش نے بھی لواحقین سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ وہ راستے میں ہیں اور ہسپتال جارہے ہیں۔ پشاور کے قصہ خوانی بازار کی جامع مسجد میں نماز جمعہ کے دوران دھماکے کے نتیجے میں کم ازکم 56 افراد شہید جبکہ 194سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ابھی بھی کچھ زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے، ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکا خودکش تھا اور حملہ آور پہلے پولیس اہلکار کے پاس آیا، پھر دہشتگردوں کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا۔ صدر مملکت عارف علوی، وزیراعظم عمران خان، وزیر داخلہ شیخ رشید،سپیکر و ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی، سابق صدر آصف علی زرداری سمیت دیگر نے خود کش دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔پولیس کے مطابق دھماکا قصہ خوانی میں کوچہ رسالدار کی جامع مسجد میں ہوا جس میں 194 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ریسکیو حکام کا بتانا ہے کہ دھماکے میں شہید ہونے والوں کی لاشیں لیڈی ریڈنگ اسپتال لائی گئی ہیں جب کہ زخمیوں کوبھی اسپتال میں طبی امداد دی جاری ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایس ایس پی آپریشنز کا کہنا تھا کہ قصہ خوانی بازار کی مسجد میں ہونے والا دھماکا خود کش تھا،

سکیورٹی ہائی الرٹ تھی اور سکیورٹی کے لیے مسجد کے گیٹ پر دو کانسٹیبل تعینات تھے۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکا خودکش تھا اور حملہ آور پہلے پولیس اہلکار کے پاس آیا، پھر دہشتگردوں کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا، دھماکے میں ایک اہلکار شہید ہوا اور دوسرا زخمی ہے۔ہارون الرشید کا بتانا تھا کہ دھماکے کے بعد پولیس نے علاقے کا محاصرہ کر لیا ہے اور ریسکیو آپریشن جاری، آپریشن مکمل ہونے کے بعد ہی مکمل تفصیلات بتائی جاسکیں گی۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…