ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

ارکان اسمبلی پہلے ہی عمران خان پر عدم اعتماد کے لئے تیار ہیں، مریم نواز

datetime 10  فروری‬‮  2022
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (این این آئی) پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے ایک بار پھر حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کی صورت میں نازل عذاب سے جان چھڑانا سیاسی فرض ہے،اگر عمران خان عوام میں جائیں تو ہیلمٹ لے جانا نا بھولیں، عوام کی حکومت عوام کی جانب سے عدم اعتماد کا شکار ہوچکی ہے، اپوزیشن جماعتیں اور اراکین اسمبلی پہلے ہی تحریک کیلئے تیار ہیں،

عمران خان کی حکومت اب ڈولتی ہوئی نظر آرہی ہے آئندہ یہ پارٹی نظر نہیں آئے گی،نیب اور عمران خان کے گڑھ جوڑ کا دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوگیا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے اور انصاف کا انتظار کروں گی۔ جمعرات ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو میں مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم نواز نے کہا کہ اللہ کا شکریہ ادا کرتی ہوں کہ جج صاحبان نے نیب سے سوال کیے اور ان کے پاس جواب نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ سماعت میں اللہ تعالیٰ نے نیب اور عمران خان کے گڑھ جوڑ کا دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کردیا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے اور انصاف کا انتظار کروں گی۔عدم اعتماد تحریک کے حوالے سے مریم نواز نے کہاکہ عوام کی حکومت عوام کی جانب سے عدم اعتماد کا شکار ہوچکی ہے، اپوزیشن جماعتیں اور اراکین اسمبلی پہلے ہی اس تحریک کے لیے تیار ہیں، عمران خان کی پارٹی کا کوئی نظریہ نہیں ہے جبکہ ان کے ساتھی صرف اقتدار کے ساتھ ہیں۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کی حکومت اب ڈولتی ہوئی نظر آرہی ہے آئندہ یہ پارٹی نظر نہیں آئے گی۔انہوں نے عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف کو مشورہ دیا کہ اب اگر آپ عوام میں جائیں تو ہیلمٹ لے جانا نا بھولیں، اب بھلے آپ ٹرکس اور کنٹینرز پر چڑھ جائیں عوام کے ہاتھ آپ کے گریبان تک پہنچ چکے ہیں اب آپ اپنی خیرمنائیں۔ایک سوال کے جواب میں مریم نواز نے کہا کہ ہماری پارٹی ایک نظریے پر ہے،

یہ سیاسی جماعتوں کے فرض میں شامل ہے کہ عمران خان کی صورت میں ملک پر جو ایک عذاب قوم پر نازل ہوچکا ہے اس سے عوام اور پاکستان کی جان چھڑائی جائے۔انہوں نے کہاکہ اگر اس عذاب سے عوام کی جان نہیں چھڑائی گئی تو جتنی قصور وار حکومت ہوگی اتنی ہی قصوار اپوزیشن بھی ہوگی، اس کے بعد عوام تمام سیاسی جماعتوں پر تنقید کریں اور اسکا آغاز اب ہوچکا ہے۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف پہلے عدم اعتماد تحریک کے

حامی نہیں تھے، تاہم نواز شریف کی قیادت میں ہونے والے پارٹی کے اجلاس میں انہوں نے بھی اس بات کی حامی بھری کیونکہ وہ اب سمجھ چکے ہیں کہ یہ قوم یہ ملک اور یہ عوام مزید تباہی کے متحمل نہیں ہوسکے۔انہوں نے کہاکہ اب وہ حالات آچکے ہیں عمران خان اور ان کی حکومت کسی کے لیے بھی قابل اعتماد نہیں رہی، جن کی حمایت عمران خان کو حاصل تھی ان کی بھی اولین ترجیح پاکستان کی عوام ہے، اور اب عوام کا اشارہ سیاسی جماعتوں کے علاوہ تمام اداروں کو دیکھنا پڑے گا۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…