ا نار کلی دھماکہ میں شہید ہونیوالا محمد رمضان گھر کا واحد کفیل اور چار سالہ بیٹی کا باپ تھا، اہل محلہ بھی دھاڑیں مار مار کر روتے رہے

  جمعرات‬‮ 20 جنوری‬‮ 2022  |  19:39

کالاشاہ کاکو(آن لائن)انار کلی دھماکہ میں شہید ہونیوالا محمد رمضان کالاشاہ کاکو کی رہائشی تھا جو اپنے گھر کا واحد کفیل اور چار سالہ بیٹی کا باپ تھا، واقعہ کی اطلاعملنیپر علاقہ میں کہرام مچ گیا، اہل محلہ دھاڑیں مار مار کر روتے رہے۔ تفصیلات کے مطابق گذشتہ روز لاہور انار کلی میں ہونیوالے دھماکہ میں شہید ہونیوالے شخص کی شناخت محمد رمضان ولد محمد بوٹا کے نام سے ہوئی ہے جوکہ کالاشاہ کاکو کی آبادی ضیا ا?باد کالونی کا رہائشی تھا۔ محمد رمضان نے کئی ماہ کی بیروزگاری کے بعد بیس روز قبل انار کلی کے باہر پھٹورا شاپ


میں نوکری اختیار کی اور دو روز کی چھٹی کے بعد گذشتہ روز صبح ڈیوٹی پر پہنچا تو دھماکہ میں شہیدہوگیا۔ 30سالہ محمد رمضان ولد محمد بوٹا چار سالہ بیٹی زہرہ کا باپ اور اپنے گھر کا واحد کفیل تھا، کرایہ کے مکان میں رہائش پذیر ہے، تین بھائیوں میں دوسرا نمبر تھا۔ دھماکہ میں شہادت کی اطلاع ملنے پر علاقہ میں کہرام مچ گیا اور اہل محلہ دھاڑں مار مار کر روتے رہے۔ اہل محلہ نے واقعہ کی غیر جانبدارانہ انکوائری اور ذمہ داران کیخلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

مقام فیض کوئی

میجر جنرل اکبر خان پاکستان کے پہلے چیف آف جنرل سٹاف تھے‘ یہ 1895ء میں امرتسر میں پیدا ہوئے تھے‘ والد چکوال کے بڑے زمین دار تھے‘ برطانوی فوج میں اس وقت گھڑ سواروں کی دو بڑی رجمنٹس ہوتی تھیں‘ ہڈسن ہارس اور پروبن ہارس‘ پاکستان کے پہلے کمانڈر انچیف جنرل والٹر میسوری ہڈسن ہارس سے تعلق رکھتے تھے جب ....مزید پڑھئے‎

میجر جنرل اکبر خان پاکستان کے پہلے چیف آف جنرل سٹاف تھے‘ یہ 1895ء میں امرتسر میں پیدا ہوئے تھے‘ والد چکوال کے بڑے زمین دار تھے‘ برطانوی فوج میں اس وقت گھڑ سواروں کی دو بڑی رجمنٹس ہوتی تھیں‘ ہڈسن ہارس اور پروبن ہارس‘ پاکستان کے پہلے کمانڈر انچیف جنرل والٹر میسوری ہڈسن ہارس سے تعلق رکھتے تھے جب ....مزید پڑھئے‎