جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

تین سال میں پی ٹی آئی نے ملک کا وہ کباڑا نہیں کیا جو منی بجٹ سے ہوجائے گا ،شہباز شریف کا انتباہ

datetime 27  دسمبر‬‮  2021
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہبازشریف نے کہاہے کہ تین سال میں پی ٹی آئی نے ملک کا وہ کباڑا نہیں کیا جو منی بجٹ سے ہوجائے گا ،منی بجٹ پاکستان اور عوام کی کمر میں خنجر گھونپنے کے مترادف ہے ، ڈٹ کر مقابلہ کریں گے،باضمیر حکومتی ارکان اور اتحادیوں سے پھر کہتا ہوں کہ منی بجٹ زہر کا پیالہ ہے دور رہیں ،منی بجٹ سے

پاکستان کی معیشت بیرونی سہارے کی مرہون منت ہوکر رہ جائے گی ۔ اپنے بیان میں اپوزیشن لیڈر نے کہاکہ یہ اقدام پاکستان کی معاشی خودمختاری، جوہری وکشمیر جیسے نازک قومی مفادات کے لئے زہرقاتل ثابت ہوگا ۔ شہباز شریف نے کہاکہ منی بجٹ سے معیشت اور عوام کا گلا کاٹنے کے بجائے 10 سالہ پائیدار معاشی حکمت عملی درکار ہے ۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان کو درپیش مسائل کی دلدل سے نکالنے کے لئے دس سال کی پالیسی تیار کرنا ہوگی ۔ انہوں نے کہاکہ دس سال کی معاشی پالیسی پر تسلسل سے کام کرکے ہی موجودہ معاشی دلدل سے نکلنے کی راہ پیدا ہوسکتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ پائیدار معاشی ترقی کے لئے دس سالہ منصوبہ بندی کی موجودہ حکومت میں نہ اہلیت ہے اور نہ ہی وڑن، نہ یہ اتفاق رائے پیدا کرسکتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ پالیسی ریٹ میں کمی کرنا ہوگی جس سے کاروبار بڑھے گا، قرض ادائیگیوں میں دبائو میں کمی آئے گی ، مہنگائی کم ہوسکے گی ،حکومت نے آئی ایم ایف سے مذاکرات جلد بازی اور افراتفری میں کئے ہیں، سنجیدگی کا مظاہرہ کیاگیا نہ تیاری نظر آئی ۔ اپوزیشن لیڈر نے کہ کہا جھوٹے

وعدوں، طفل تسلیوں، خام خیالی پر پائیدار ومستحکم معاشی بنیادیں کھڑی نہیں ہوسکتیں ،بڑھتی مہنگائی، کرنٹ اکائونٹ خسارہ میں اضافہ اور روپے کی قدر میں مسلسل کمی ٹِک ٹِک کرتے بم ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہفتہ وار اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کا اشاریہ دو سال کی بلند ترین سطح 19.83 فیصد پر ہے ،اس کا مطلب ہے کہ مہنگائی مسلسل بڑھ رہی ہے، کھانے پینے اور بجلی

گیس کی قیمت میں اضافہ ہوا ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں 1.6 فیصد کی کمی ہوئی ہے ،غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر 25.027 ارب ڈالر سے کم ہوکر 24.633 ارب ڈالر پر آگئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ معاشی ترقی ہورہی ہوتی تو ملک میں فی کس آمدنی میں مسلسل کمی نہ ہورہی ہوتی ،تین سال گزر گئے، موجودہ حکومت معیشت کے تین ابتدائی مرحلوں میں سے ابھی پہلا بھی شروع نہیں کرپائی ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کی معیشت کو غیرملکی انحصار سے نکال کر خودانحصاری اور داخلی معیشت کی طرف لانا ہوگا،موجودہ حکومت نے معاشی استحکام کے لئے کوئی کام نہیں کیا۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…