پیر‬‮ ، 12 جنوری‬‮ 2026 

عوامی جلسوں میں اداروں کے سربراہان کے خلاف نعرے لگانا قومی مفاد کیخلاف ہے،شہبازشریف

datetime 25  اکتوبر‬‮  2021 |

لاہور( این این آئی )پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہبازشریف نے کہاہے کہ فیصل آبادمیں جس نے نعرے لگائے اس کا مسلم لیگ (ن) سے کوئی تعلق نہیں،عوامی جلسوں میں اداروں کے سربراہان کے خلاف نعرے لگانا قومی مفاد کے خلاف ہے، آج مہنگائی پاکستان کا نمبر ون مسئلہ ہے، اپوزیشن نے اس کے خلاف کمر کس لی ہے، حکومت کے جانے کا وقت آ گیا ہے

اور اس حکومت کو مزید برداشت نہیں کریں گے،قوم کی بد قسمتی ہے کہ سلیکٹڈ وزیراعظم نے پارلیمنٹ کو تالا لگا دیاہے، ہر چیز آرڈیننس پر چل رہی ہے،جو لوگ آئندہ وزیر اعظم کے حوالے سے مسلم لیگ (ن)میں اختلاف دیکھ کر دل پشوری کرنا چاہتے ہیں ان کویہ موقع کبھی نہیںملے گا ۔ان خیالات کااظہارانہوں نے مسعودہ نصیر ویلفیئر ٹرسٹ کے زیر اہتمام تقریب میں شرکت کے موقع پر خطاب اور میڈیاسے گفتگوکرتے ہوئے کیا۔ شہبازشریف نے کہا کہ کسی بھی ملک کے دفاع و سلامتی کیلئے مضبوط فوج ناگزیرہے، ادارے میں تقرر و تبادلے ان کا اپنا معاملہ ہے ،فیصل آباد میں جو نعرے لگے ہیںاس کا مسلم لیگ (ن)سے کوئی تعلق ہے نہ ہی وہ پارٹی کا کارکن یاکوئی عہدیدار تھا، اداروں کے سربراہوں کے خلاف نعرے نہیں لگنے چاہئیںیہ قومی مفاد کے خلاف ہے ،کسی بھی ملک کے دفاع وسلامتی کیلئے مضبوط پیشہ وارانہ فوج ناگزیر ہے ،پاکستان دفاع و امن و سلامتی کیلئے مضبوط فوج بنیادی بات ہے ،ادارے میں تقرر و تبادلے ان کا اپنا معاملہ ہے ۔انہوںنے کہاکہ قوم کی خواہش ہے افغانستان میں امن قائم ہو ،(ن) لیگ سمیت قوم کسی بھی بین الاقوامی سازش کوکامیاب نہیں ہونے دے گی ،دفاع پر آنچ نہیں آنے دیں گے ۔انہوںنے کہاکہ پارلیمنٹ میں آئین کی حکمرانی خارجی و داخلی معاملات طے ہوتے ہیں لیکن بدقسمتی ہے کہ سلیکٹڈ وزیراعظم نے پارلیمنٹ کو تالا لگا رکھا ہے ،

ہر چیز صدارتی آرڈیننس سے چلائی جا رہی ہے ،معیشت کو نڈھال و برباد کر دیاہے، ڈالر 175کی اڑان کو پہنچ چکا ہے ،اگر یہی حالت رہی تو سب اکٹھے بھی ہو جائیں تو ملک کو خراب حالات سے نہیں بچا سکتے۔ انہوں نے کہاکہ مہنگائی نمبر ون مسئلہ ہے، اپوزیشن اس کے خلاف نکل کھڑی ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ سنا ہے وزیر اعظم

80افراد کا وفد لے کر سعودی عرب گئے ،جو بجلی گیس پیٹرول مہنگا ہونے پر کہتا تھا کہ وزیر اعظم کرپٹ ہے آج ان کے دورمیں مہنگائی کے حالات بدترین ہو چکے ہیں،74سال میں دیکھتی آنکھ نے دل خراش منظر نہیں دیکھا ،آج لوگ فاقہ کشی کررہے ہیں ،اس حکومت کو عوام اورنہ کوئی اور برداشت کرے گا ،انہیں عوام کے سامنے بے

نقاب کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ آئندہ وزیر اعظم کے حوالے سے مسلم لیگ (ن)میں اختلاف دیکھ کر دل پشوری کرنا چاہتے ہیں ان کویہ موقع کبھی نہیںملے گا ۔انہوںنے کہاکہ ہم نے اپنے دور میں ڈینگی کو کنٹرول کیا ،صبح سے لے کر شام تک ہم ڈینگی کو کنٹرول کرنے کیلئے میدان میں نکلے، ہم نے قریہ قریہ سپرے کیا ،سکولوں

میں لیکچر دئیے اور ڈاکٹرز کو بیرون ملک ٹریننگ دلوائی لیکن یہ حکومت غفلت میں پڑی ہے۔ہم نے کہیںدوبارہ مچھر پیدا نہیں ہونے دیا ،نوے روپے ڈینگی ٹیسٹ کا پابند کیا ،خان کی لیبارٹری ہو یا کوئی اور ٹیس کو نوے روپے یقینی کروایا ،ہسپتالوں میں جانا ہوتا تو عوام کا سیلاب ہوتاتھا ،ہزاروں لوگ پریشان حال ہوتے تھے ،ہم نے ڈینگی پر

بریگیڈ اور کتابچہ بنایا ۔ شہباز شریف نے مزید کہا کہ اس ٹرسٹ میں یتیم بچے بچیوں کی کفالت کی جاتی ہے جس پر دل کی اتھارہ گہرائیوں سے مبارکباد دیتاہوں ، یتیم بچے و بچیوں کو ملا ہوں جن کے والدین سر پر نہیں، انہوں نے تمام مشکلات و مایوسی کے باوجود ہمت نہیں ہاری، یتیم بچوں کی کفالت سے بڑا کوئی عمل نہیں جس سے رب کی

خوشنودی حاصل ہو،رزق حلال کی کمائی سے بچوں کے سرپر دست شفت رکھ رہے ہیں جس کا بے شمار اجر ہے۔شہبازشریف نے کہاکہ زندگی کے اندھے تھپیڑوں کے باوجود یہاںروشنی گھر خوراک تعلیم علاج و معالجہ ہے،اسی ماڈل کو سامنے رکھتے ہوئے غریبوں و مسکینوں کیلئے دانش سکول بنائے،ایچی سن سکول وکالج میں

امرا ء و اشرافیہ کے بچے جا سکتے ہیں، دانش سکول پر بے پناہ تنقید کے نشتر برسائے اور تنقید کرنے والوں کا تعلق اشرافیہ و امرا ء سے تھا،دانش سکول کا فلسفہ اسی چیز کی غمازی کرتاہے کہ یتیم بھی اعلی تعلیم حاصل کریں،دانش سکول کے بچوں نے امتحانات میں نمایاں پوزیشن حاصل کیں ۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا


والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…