اتوار‬‮ ، 07 جون‬‮ 2026 

عائشہ اکرم نے اپنی مرضی سے قابل اعتراض ویڈیوز بنوائیں پولیس کا ٹک ٹاکر کے خلاف کارروائی کا فیصلہ

datetime 13  اکتوبر‬‮  2021 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک /این این آئی)مینار پاکستان گریٹر پارک کیس میںاہم ترین پیشرف سامنے آگئی ، ٹک ٹاکر عائشہ اکرم کے گرد بھی قانونی گھیرا تنگ کر دیا گیا۔ پولیس کے مطابق ٹک ٹاکر کی قابل اعتراض ویڈیو مرضی سے بنوانے پر کاروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے،

پولیس نے پیکا ایکٹ کے تحت کارروائی کے لئے لیگل ڈیپارٹمنٹ سے رائے مانگ لی،پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مرضی سے ویڈیوز بنوانا اور پھر اسے سوشل میڈیا پر وائرل کرناقانوناً جرم ہے ، ٹک ٹاکر عائشہ اکرم اور ریمبو کی قابل اعتراض ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں، پیکا ایکٹ کے تحت ریمبو اور عائشہ کو سات سال کی سزا ہو سکتی ہے۔دوسری جانب گریٹر اقبال کیس سے جڑے کرداروںعائشہ اکرم اور اس کے ساتھی ریمبو کے درمیان ہونے والی گفتگو کی ایک اور مبینہ آڈیو سامنے آ گئی ۔مبینہ ویڈیو میں موبائل اور رقم کا غلط بیان دینے کی منصوبہ بندی کی گفتگو کی جارہی ہے ۔ مبینہ آڈیو کے مطابق عائشہ کی جانب سے یہ کہا جارہاہے کہ ایف آئی آر میں موبائل نہیں لکھا ہوا اور تھوڑے سے پیسے لکھیں ہیں۔ لڑکی کا ساتھی ریمبو کہتا ہے کہ انہیں یہ کہوں گا موبائل ڈیڑھ لاکھ کا لیا ایپل آئی ڈی بنانا تھی ۔مبینہ آڈیومیں عائشہ کو ریمبو کو تاکید کرتے ہوئے سنا جا سکتاہے کہ کہنا میڈم کا فون ڈیڑھ پونے دو لاکھ کا تھا ،تم کہنا میڈم نے لیا تھاان کو پتا ہو گا ،ان کا فون تھا وہ شوٹ کرتی تھیں ۔ ریمبو اس کے جواب میں کہتا ہے او کے میں کہہ دوں گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…