وکلا کا احتجاج ، سپریم کورٹ کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات

  جمعرات‬‮ 9 ستمبر‬‮ 2021  |  13:40

اسلام آباد( آن لائن ) سپریم کورٹ میں سنیارٹی کو نظرانداز کرکے جونیئر ججز کا تقرر کرنے کیخلاف ملک بھر میں وکلا نے ہڑتال کی اور عدالتوں میں پیش نہ ہوئے۔پاکستان بار کونسل، سپریم کورٹ بارایسوسی ایشن، خیبرپختونخوا بار کونسل، سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن سمیت مختلف تنظیموں کی کال پر وکلا نے عدالتی بائیکاٹ کیا۔ انہوں نے عدالتوں کیمرکزی عمارتوں کے دروازے بند کردیے جس سے سائلین کا داخلہ بند ہوگیا۔وکلا اور سائلین کی عدم پیشی پر مقدمات کی سماعت متاثر ہوگئی۔ عدالتی راہداریوں میں سناٹا رہا اور عدالتی عملہ وکلا اور سائلین کے نام پکارتا رہا جو


پیش نہ ہوئے۔وکلا ء احتجاج کیلئے سپریم کورٹ یں جمع ہوئے تو اس موقع پر پولیس کی بھاری نفری بھی تعینات تھی اور سیکورٹی کے پیش نظر کورٹ کی پارکنگ بھی بند کر دی گئی۔ وکلا نے مطالبہ کیا کہ ججوں کی تعیناتی میں سنیارٹی اصول مدنظر نہیں رکھا گیا سپریم کورٹ میں روایتی طریقہ کار کے تحت سنیارٹی کی بنیاد پر ججز تعینات کئے جائیں، ہمارا احتجاج پرامن ہے۔ وکلا نے چیف جسٹس کے خلاف نعرہ بازی بھی کی۔وکلا ہڑتال کے باعث چیف جسٹس کے سامنے کسی بھی سائل کا وکیل پیش نہ ہوا اور دو مقدمات میں صرف سرکاری وکلا پیش ہوئے جس کے باعث سپریم کورٹ میں بینچ نمبر ایک کی سماعت ختم ہوگئی۔ بینچ نمبر ایک نے مختلف سائلین کو سن کر مناسب احکامات جاری کیے۔علاوہ ازیں لاہور ہائیکورٹ کی جج جسٹس عائشہ اے ملک کو سپریم کورٹ لانے کے حوالے سے چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ہوگا۔ اجلاس میں جسٹس عائشہ اے ملک کو سپریم کورٹ کا جج بنانے پر غور کیا جائے گا۔ جسٹس عائشہ اے ملک لاہور ہائیکورٹ میں سنیارٹی پر چوتھے نمبر پر ہیں۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

کوئی دوسرا آپشن نہیں بچا

خواجہ خورشید انور پاکستان کے سب سے بڑے موسیقار تھے‘ پاکستانی موسیقی میں ایک ایسا دور بھی آیا تھا جسے ’’خواجہ کا وقت‘‘ کہا جاتا تھا‘ وہ دھن نہیں بناتے تھے دل کی دھڑکن بناتے تھے اورجب یہ دھڑکنیں دھڑکتی تھیں تو ان کی آواز روح تک جاتی تھی‘ خواجہ صاحب نے 1958ء میں جھومر کے نام سے فلم شروع ....مزید پڑھئے‎

خواجہ خورشید انور پاکستان کے سب سے بڑے موسیقار تھے‘ پاکستانی موسیقی میں ایک ایسا دور بھی آیا تھا جسے ’’خواجہ کا وقت‘‘ کہا جاتا تھا‘ وہ دھن نہیں بناتے تھے دل کی دھڑکن بناتے تھے اورجب یہ دھڑکنیں دھڑکتی تھیں تو ان کی آواز روح تک جاتی تھی‘ خواجہ صاحب نے 1958ء میں جھومر کے نام سے فلم شروع ....مزید پڑھئے‎