ہفتہ‬‮ ، 10 جنوری‬‮ 2026 

سول سرونٹس کو دوسرا پلاٹ ملنا قانونی نہیں ہائیکورٹ کا تحریری فیصلہ جاری

datetime 29  اگست‬‮  2021 |

اسلام آباد (این این آئی)اسلام آباد ہائی کورٹ نے اعلیٰ عدلیہ کے ججز اور بیورو کریٹس کو دوسرے پلاٹ کی الاٹمنٹ غیر قانونی قرار دینے کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا جس کے مطابق سول سرونٹس، اعلیٰ عدلیہ کے ججز کو دوسرے پلاٹ کی الاٹمنٹ حکومت کے سامنے رکھیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے 24 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔

تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ سول سرونٹس، اعلیٰ عدلیہ کے ججز کو دوسرے پلاٹ کی الاٹمنٹ حکومت کے سامنے رکھیں۔عدالت کے تحریری فیصلے میں سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن، سیکریٹری قانون اور سیکریٹری ہائوسنگ کو معاملہ وفاقی حکومت کے سامنے رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔تحریری فیصلے میں عدالت نے کہا کہ وفاقی حکومت اور وزیرِ اعظم کی ذمے داری ہے کہ وہ قانون کے مطابق اس معاملے کا جائزہ لیں، قانون کو مدِ نظر رکھ کر وفاقی حکومت از سرِ نو اس کی منظوری دے۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ ریاست مختلف شعبوں کے افراد کے درمیان امتیازی سلوک کا تصور زائل کرے، ریاست کی ذمے داری ہے کہ اقلیتوں اور دیگر شہریوں کو آئین کے مطابق مساوی حقوق دے۔تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ توقع ہے کہ وفاقی حکومت اور وزیرِ اعظم امتیازی سلوک کے بغیر قانون کا صحیح معنوں میں نفاذ کریں گے۔عدالتِ عالیہ نے اپنے تحریری فیصلے میں کہا کہ سول سرونٹس کو دوسرا پلاٹ ملنا قانونی نہیں، اضافی پلاٹ کی الاٹمنٹ سے سمجھا جائے گا کہ ریاست کے برابری کے

بنیادی اصول کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ عدالت کے سامنے نشاندہی کی گئی ہے کہ اعلیٰ عدلیہ کے ججز وہی مراعات لے سکتے ہیں جو ان کیلئے آئین میں درج ہیں، ججز کو پلاٹس کی الاٹمنٹ دینے سے متعلق آئین کا آرٹیکل 205 اور صدارتی آرڈر 1997ء خاموش ہے۔تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت کی ذمے داری ہے کہ امتیازی سلوک کے بغیر قانونی سازی سے جواب دے تاکہ عوام کا گورننس کے سسٹم پر اعتماد بحال ہو۔عدالتِ عالیہ نے اپنے تحریری فیصلے میں کہا کہ گریڈ 22 کے افسران اور اعلیٰ عدلیہ کے ججز کو دوسرا پلاٹ الاٹ کرنے کی پالیسی غیر قانونی قرار دی جاتی ہے۔واضح رہے کہ سابق وزیرِ اعظم شوکت عزیز کے دور میں دوسرا پلاٹ دینے کی پالیسی شروع کی گئی تھی۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پرسی پولس


شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…