جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

ججز پر جھوٹے الزامات لگانے والوں کی درخواستیں بھاری جرمانوں کیساتھ خارج کی جانی چاہئیں، لاہورہائیکورٹ

datetime 9  اگست‬‮  2021
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور(این این آئی)لاہور ہائیکورٹ نے ماتحت عدلیہ کے ججز پر جانبداری کے الزامات کیخلاف اہم فیصلہ جاری کردیا ،لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سہیل ناصر نے جج پر جانبداری کا الزام لگا کر کیس منتقل کروانے کے درخواست گزار پر جرمانہ عائد کردیا ۔لاہورہائیکورٹ کے جسٹس سہیل ناصر نے عبدالرزاق کی درخواست پر سات صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے

فیصلے کو عدالتی نظیر قرار دیا ہے۔جسٹس سہیل ناصر نے ملزم کی ضمانت کی درخواست دوسرے جج کو منتقل کرنے کی درخواست پر50 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کر دیا۔ تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جج کسی کے حق میں فیصلہ کرے تو وہ اچھا،ایماندار ، قابل اور محنتی ہے، جج اگر خلاف فیصلہ دے تو جانبدار، بے ایمان اور دوسرے فریق سے ملے ہونے کے الزامات لگتے ہیں، سائلین کے ایسے الزامات کو روکنے کا یہی وقت ہے جو اپنے غیر قانونی مقاصد کیلئے انصاف کی فراہمی میں رکاوٹ ڈالتے ہیں، ججز پر الزامات لگانے والے سائلین سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کی ضرورت ہے، دن رات انصاف کی فراہمی میں مصروف ججوں کو تحفظ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے، ججز پر جھوٹے الزامات لگانے والوں کی درخواستیں بھاری جرمانوں کے ساتھ خارج کی جانی چاہئیں، ماتحت عدلیہ کے ججوں کی ساکھ پر الزامات لگا کرکیس منتقل کرنے کارجحان خطرناک حد تک بڑھ رہا ہے، کیس منتقلی کی ایسی درخواستوں سے نہ صرف جوڈیشل افسران بلکہ اس نظام میں کام کرنے والوںکا اعتماد بھی لرز جاتا ہے۔جسٹس سہیل ناصر نے فیصلہ میں مزید کہا ہے کہ ججز سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ بغیر کسی دنیاوی لالچ کے ایمانداری اور لگن سے فیصلے دیں، عدلیہ کی آزادی ہی عدالتی انظام کا مقصد ہے، عدالتوں پر کسی پرائیوٹ افراد کے ذریعے دبائو نہیں ڈالا جا سکتا،

عدالت کا اختیار ہے کہ وہ کیس کو کس طرح چلائے،کوئی فریق اپنی خواہشات کے مطابق کیس چلانے پر زور نہیں دے سکتا، کیس میں دلائل دینا فریق کا حق لیکن قانون کے مطابق فیصلہ کرنا عدالت کا کام ہے، اقدام قتل کے مقدمہ کے مدعی عبدالرزاق نے ملزم علی حسن، محمد ندیم اور عباس کی ضمانت کی درخواست دوسری عدالت منتقل کرنے کی استدعا کی تھی ۔درخواست گزار نے ایڈیشنل سیشن جج محمد اعظم رانا پر ملزم پارٹی سے مالی فائدہ حاصل کرنے کا الزام لگایا تھا۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…