پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

اسلام آباد ہائی کورٹ میں کورونا کا شکار وکیل پیش ہونے پر کھلبلی مچ گئی

datetime 9  اگست‬‮  2021 |

اسلام آباد( آن لائن، این این آئی )اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کی عدالت میں کورونا کا شکار وکیل پیش ہونے پر کھلبلی مچ گئی۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے فاضل جج جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب معمول کے مطابق مختلف مقدمات کی سماعت کررہے تھے کہ ایک مقدمے کے دوران ایڈوکیٹ زبیر جرال نامی وکیل نے عدالت

کو بتایا کہ اسے کورونا ہے لیکن اس کے باوجود وہ عدالت کے روبرو پیش ہوئے ہیں۔وکیل کی جانب سے خود کو کورونا کا مریض بتانے پر عدالت میں کھلبلی مچ گئی، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ جب آپ کورونا کا شکار تھے تو کیوں پیش ہوئے، آپ کو عدالت نہیں آنا چاہیے تھا، عدالت نے کورونا کا معلوم ہونے پر وکیل اور اس کے زیر استعمال کرسی کو باہر نکال دیا، فاضل جج نے عدالتی عملے کو ہدایت کی کہ کمرہ عدالت میں انسداد کورونا اسپرے کیا جائے۔دوسری جانب ملک بھر میں چوبیس گھنٹوں کے دوران کرونا سے مزید 53 افراد انتقال کر گئے ،4ہزار 40نئے کیس رپورٹ ہوئے ہیں،گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں کورونا کے مثبت کیسز کی شرح 7 اعشاریہ 54 فیصد رہی۔نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ روز ملک بھر میں 53ہزار528 ٹیسٹ کیے گئے تھے جن میں سے چار ہزار 40 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی۔

ملک بھر میں کورونا کے مجموعی کیسز کی تعداد 10 لاکھ 71 ہزار 620 ہو گئی جبکہ کورونا سیاموات کی تعداد 23 ہزار 918 تک جاپہنچی ہے۔سندھ میں کورونا کے کیسز کی تعداد 4 لاکھ چار سو، خیبر پختونخوا میں ایک لاکھ 48 ہزار 619، پنجاب میں تین لاکھ 64 ہزار 680 تک جا پہنچی ہے۔وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں کورونا کیسز کی

تعداد 90 ہزار 660، بلوچستان میں 31 ہزار 177، آزاد کشمیر میں 27 ہزار 288 اور گلگت بلتستان میں 8 ہزار 796 ہو گئی ہے۔کورونا کے سبب سب سے زیادہ اموات پنجاب میں ہوئی ہیں جہاں 11 ہزار 201 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔سندھ میں 6 ہزار 215، خیبرپختونخوا 4 ہزار 556، اسلام آباد 816، گلگت بلتستان 153، بلوچستان میں 331 اور آزاد کشمیر میں 646 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…