آزاد کشمیر انتخابات سیاسی جماعت کے کارکنوں کا پولیس پارٹی پر حملہ اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بھی بنا ڈالا

  اتوار‬‮ 25 جولائی‬‮ 2021  |  16:05

مظفر آباد،کوٹلی،کراچی (این این آئی)آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے لیے ہونے والے انتخابات کے سیاسی جماعت کے کارکنوں نے پولیس اہلکاروں کو بھی تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔ایل اے 32 ڈل چٹیاں آزاد کشمیر میں پولنگ اسٹیشن نمبر 54 میں سیاسی جماعت کے کارکنوں کی جانب سے پولیس پارٹی پر حملہ کیا گیا۔ایس پی ریاض مغل کے مطابق پولیس پارٹی پرحملے کا واقعہ خواتین پولنگ اسٹیشن پر پیش آیا، سیاسی جماعت کے کارکنوں کو خواتین پولنگ اسٹیشن جانے سے روکا تھا۔انہوں نے کہاکہ سیاسی جماعت کے کارکنوں کے حملے میں 5 پولیس اہلکار زخمی ہوئے، کارکنوں نے ڈنڈوں


سے پولیس پر حملہ کیا۔دوسری جانب آزاد کشمیر کے انتخابات کے دوران مختلف مقامات پر سیاسی کارکنوں کے درمیان تصادم کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے اطلاعات کے مطابق آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کی 45 نشستوں پر پولنگ کے دوران مختلف مقامات پر سیاسی جماعتوں کے درمیان تصادم بھی ہوا ۔کوٹلی میں حلقہ ایل اے 12 میں پولنگ اسٹیشن میں پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کے کارکنوں کے زبانی تلخ کلامی نے خونی تصادم کی شکل اختیار کرلی، جھگڑے کے دوران فائرنگ سے 2 افراد جاں بحق ہوگئے۔لیپہ کے حلقہ ایل اے 33 کے پولنگ اسٹیشن نمبر 111 میں (ن) لیگ اور تحریک انصاف کے کارکنوں میں تصادم کے باعث ووٹنگ کا عمل کچھ دیر کیلئے روک دیاگیا،باغ میں حلقہ ایل اے 15 ہاڑی گہل پدر محمد علی پولنگ اسٹیشن پر پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی کے کارکن گتھم گتھا ہوگئے ، دونوں جانب سے لاٹھیوں کا آزادانہ استعمال کیا گیا،جس کے نتیجے میں 10 افراد زخمی ہوگئے۔ پرتشدد کارکنوں کو منتشر کرنے کے لیے وہاں تعینات ایف سی اہلکاروں نے ہوائی فائرنگ بھی کی۔مظفرآباد میں حلقہ ایل اے 3 کے پولنگاسٹیشن 25 اور 26 میں سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کے درمیان وقفے وقفے سے ہونے والی ہاتھا پائی کے باعث پولنگ کا عمل متاثر ہوا۔ پولنگ اسٹیشن میں تناؤ کو دیکھتے ہوئے پولیس کی مزید نفری تعینات کرنا پڑی ہٹیاں بالا میں جسکول پولنگ اسٹیشن پر بھی (ن) لیگ اور پیپلز پارٹی کے کارکن آمنے سامنے آگئے اور ایک سیاسی جماعت کی جانب سےپولنگ بند کرانے کی کوشش کی گئی، حلقہ ایل اے 27 کے کوپرا گلی پولنگ اسٹیشن میں دو گروپوں کے مابین جھگڑا ہوگیا جس پر پولنگ کا عمل کچھ دیر کے لیے روک دیا گیا۔کراچی کے علاقے نارتھ ناظم آباد بلاک ایم میں قائم پولنگ اسٹیشن کا ماحول بھی کشیدہ رہا، پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کارکنان وقفے وقفے سے ایک دوسرے کے خلاف نعرے بازی کرتے رہے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

دو ہزاربچوں کا محسن

چترال کے دو حصے ہیں‘ اپر چترال اور لوئر چترال‘ دونوں اضلاع الگ الگ ہیں‘ لوئر چترال دریا کے کنارے آباد ہے اور وادی نما ہے جب کہ اپر چترال پہاڑوں پر چپکے‘ لٹکے اور پھنسے ہوئے دیہات کی خوب صورت ٹوکری ہے‘ ہم اتوار کی صبح اپر چترال کے ضلعی ہیڈ کوارٹر بونی کے لیے روانہ ہوئے‘ سفر مشکل ....مزید پڑھئے‎

چترال کے دو حصے ہیں‘ اپر چترال اور لوئر چترال‘ دونوں اضلاع الگ الگ ہیں‘ لوئر چترال دریا کے کنارے آباد ہے اور وادی نما ہے جب کہ اپر چترال پہاڑوں پر چپکے‘ لٹکے اور پھنسے ہوئے دیہات کی خوب صورت ٹوکری ہے‘ ہم اتوار کی صبح اپر چترال کے ضلعی ہیڈ کوارٹر بونی کے لیے روانہ ہوئے‘ سفر مشکل ....مزید پڑھئے‎