جمعہ‬‮ ، 09 اکتوبر‬‮ 2026 

’’موت تو بس شروعات ہے ‘‘

datetime 18  جولائی  2021 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)تاریخ معجزوں سے بھری پڑی ہے لیکن ایک واقعہ مصر میں ایسا پیش آیا جس کو سن کے آپ حیران و پریشان رہ جائیں گے کہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے،واقعہ مصر کے ایک گاؤں المقرابیاپ میں پیش آیا جہاں ایک شخص کو اس کے گھر والوں نے

مردہ سمجھ کر دفنا دیا مگر مردہ نے اپنے گھروالوں کا پیچھا نہیں چھوڑابلکہ ان سے خوابوں میں آکر ملاقاتیں کر تا رہا اور مسلسلاپنی قبر ایسی جگہ منتقل کرنے کامطالبہ کرتا رہا جہاں وہ اعتکاف ،دعا اور عبادت کیلئے استعمال کرتا تھا ۔مسلسل خوابوں میں آکر قبرمنتقلی پر محمد عبدالوہاب مصطفی کی قبر کشائی اور منتقلی کیلئے عدالت سے رابطے کئے گئے جس پر اجازت ملنے کی صورت میں جب قبر کشائی کی گئی توسب میت کو دیکھ کر حیران ہو گئے میت کی جست خاکی کی حالت ایسی تھی جیسے ابھی تدفین کی گئی ہو۔قبر کشائی کے دوران موجود طبی ماہرین نے حیران کن انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ میت کو دیکھ کے ایسا لگتا ہے کہ مردشخص کو قبر کشائی سے چند منٹ پہلے ہی دفنایا گیا ہوں یعنی کے انہیں اپنے انتقال سے 35دن پہلے ہی دفن کردیا ہو۔مئیر جج نے بھی حالیہ قبر کشائی کے واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ تدفین کے وقت مرحومکیلئے بڑا اہتمام کیاگیا اور وہ ایک عبادت گزار اور نیک انسان خیال کئے جاتے تھے۔ان کے رشتہ داروں نے انکا مزار قائم کرنے کابھی فیصلہ کر لیاہے۔اس حوالے سے ایک اور واقعہ قارئین کے ذوق کی نذر ۔اللہ تعالی کے نیک بندوں کےلئے دنیا سے چلے جانے کے بعد بھی کچھ ایسے واقعات ظاہر ہوتے ہیں جو لوگوں کے اللہ پاک اور یوم حساب پر ایمان کی مضبوطی کا باعث بنتے ہیں ۔ ایسا ہی ایک واقعہ کراچی میں پیش آیا جہاں ایک ماہ قبل بنی قبر سے رات گئے قرآن پاک کی تلاوت اوراللہ ہو کے ورد کی آوازیں آتی تھیں۔ اب 61برس سے اس قبرستان میں کام کرنےوالے گورکن نے بتایاکہ چند روز قبل رات گئے قبرستان کا چکرلگا رہا تھاکہ ایک نئی قبر سے پہلے تلاوت قرآن پاک کی آوازیں آئی اورپھر اللہ ہوکا ورد بلند ہوا ، میں خوفزدہ ہوکر اپنے ڈیرے کو لوٹ گیا ، صبح اپنے ساتھیوں کویہ واقعہ سنایا اور انہیں سفید ماربل والی مذکورہ قبر دکھائی ، ساتھی گورکنوں سے معلوم ہوا کہ یہ قبر گزشتہ ماہ انتقال کرنےوالے ایک پیش امام مولانا سعید الحسن فیضی قادری کی ہےجنہوں نے اپنا گھر فروخت کرکے مسجد تعمیر کروائی تھی اوربرسوں وہاں امامت کرتے رہے ، ان کی وفات بائیس فرور ی کوہوئی تھی جب ان کی میت قبرستان لائی گئی تو جنازے میں لوگوں کی بڑی تعداد شامل تھی ، گورکن فیض بخش کا کہنا تھا کہ اب وہ علی الصبح اس قبر پر جاتا اوربلاخوف صفائی کرکے فاتحہ خوانی کرتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…