اتوار‬‮ ، 04 اکتوبر‬‮ 2026 

نیب بتائے400 ارب کی ریکوری کس سے کی ہے، قومی احتساب بیورو سے سوال پوچھ لیا گیا

datetime 16  جولائی  2021 |

اسلام آباد(آن لائن) پارلیمانی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے قومی احتساب بیورو کو بھجوائے گئے کیسسز پر پیشرفت کی رپورٹ طلب کر لی ہے اور کہا ہے کہ نیب کو بتانا پڑے گا کہ اس نے 400 ارب روپے سے زائد کی ریکوری کس سے کی ہے ؟ جبکہ خواجہ آصف نے پی اے سی سے مطالبہ کیا ہے کہ پارلیمنٹ بالا دست ہے اسے وزارتوں کے کرپشن کیسسز ایف آئی اے یا نیب کو نہیں بجھوانے چاہئیں

بلکہ خود فیصلہ کرے ۔ اجلاس کے دوران سیکرٹری منصوبہ بندی نے نیشنل لاجسٹک سیل کو وزارت منصوبہ بندی سے واپس لینے کا مطالبہ کر دیا اور کہا کہ وہ اس ادارے کو نہیں سنبھال سکتے ۔آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ سی پیک منصوبوں کے تحت بہت سے ٹھیکے ٹینڈرز کے بغیر دیئے گئے ۔ جمعرات کو پارلیمنٹ ہائوس میں رانا تنویر کی زیر صدارت پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کااجلاس منعقد ہوا ۔ اجلاس میں پی اے سی چئیرمین رانا تنویر نے نیب کو بھجوائے گئے کیسز پر پیش رفت کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے کہا کہ تفصیل دیں کہ کس سیاستدان یا بیوروکریٹ سے کتنی ریکوری کی اور کتنوں نے پلی بارگین کیا۔ انہوں نے کہا نیب پریس کانفرنس کر دیتا ہے کہ 4سو ارب روپے کی ریکوری کی ہے، کہاں سے کی ہے بتائیں۔ انہوں نے کہا نیب پی اے سی کے زیر التوا کیسز پر تفصیلی رپورٹ جمع کروائے۔ خواجہ آصف نے کہا پی اے سی کو کیسز نیب یا ایف آئی اے کو نہیں بھجوانے چاہئیں۔ پارلیمنٹ بالادست ہے، وزارتوں کے ساتھ مل کر معاملات حل کریں۔ انہوں نے کہا پی اے سی اپنی حدود کا تحفظ کرے۔ ایاز صادق نے کہا آج تک یہ نہیں پتا چلا کہ نیب نے کس سیاستدان یا بیوروکریٹ سے کتنی ریکوری کی۔ کنٹرولر جنرل اکائونٹس کی عدم حاضری پر پی اے سی نے اظہار برہمی کیا چیئرمین پی اے سی نے ڈپٹی کنٹرولر کو اجلاس سے بھجوا دیا۔

وزارت منصوبہ بندی کی آڈٹ رپورٹ 20-2019 بھی اجلاس میں زیر غور آئی ۔ آڈٹ حکام نے کہا این ایل سی نے کراچی گرین لائن بی آر ٹی ایس میں ایسکیلیٹرز کی تنصیب کیلئے ٹینڈر کے بغیر ٹھیکہ دیا۔منصوبے پر 96 کروڑ روپے خرچ ہوئے۔ سیکریٹری منصوبہ بندی نے بتایا این ایل سی برائے نام وزارت منصوبہ بندی کے ساتھ

ہے۔ این ایل سی خود مختار ادارہ ہے۔ این ایل سی حکام نے کہا کراچی انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ ڈیولپمنٹ کمپنی نے شرط رکھی کہ صرف شینڈلر کے ایسکیلیٹرز لگانے ہیں۔پپرا قانون ہمیں اس اقدام کی اجازت دیتا ہے۔پی اے سی نے پپرا سے معاملہ پر رائے لینے کا فیصلہ کیا ۔ آڈٹ حکام کا کہنا تھا این ایل سی نے کام مکمل نہ ہونے کے باوجود

ٹھیکیداروں کو زائد ادائیگیاں کیں۔ این ایل سی نے حبیب رفیق اور خان کنسٹرکشن سمیت کئی کمپنیوں کو 17 کروڑ 80 لاکھ روپے زائد ادا کیے۔آڈٹ حکام نے ہمارے ایک انٹرنل خط کی بنیاد پر آڈٹ پیرا بنایا۔ہمارے ایک خفیہ خط پر آڈٹ پیرا کیسے بنایا گیا۔پی اے سی نے معاملہ کی تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔ سیکرٹری منصوبہ بندی نے کہا ہماری التجا ہے کہ این ایل سی کو وزارت منصوبہ بندی سے واپس لے لیا جائے۔ ہم اس ادارے کو نہیں سنبھال سکتے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…