ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

بیٹے سے محبت کا انوکھا واقعہ والد نے کار فروخت کر دی

datetime 1  جولائی  2021 |

اسلام آباد(این این آئی )والدین کے لیے اولاد سے بڑھ کرکچھ نہیں ہوتا، اپنی اولاد کی خوشیوں کے لئے ہرممکن کوشش کرتے ہیں کہ زندگی تمام سہولیات اس کو فراہم کریں،مگر کبھی کبھار والدین کو اولاد کی خوشیوں کی بھاری قیمت چکانا پڑتی ہے جیسا کہ ایک شہری کے ساتھ ہوا۔تفصیل کے مطابق والدین

کے لئے اولاد کی خوشیوں سب سے عزیز ہوتیں ہیں اس لئے وہ اپنی زندگی اپنے بچوں کو خوش رکھنے اور زندگی کی تمام بنیادی ضروریات کے لئے واقف کردیتے ہیں، مگر کبھی کبھار اولاد کی خوشیوں کو خریدنے کے لئے بھاری قیمت بھی اداکرنا پڑتی ہے،اولاد کی پرورش سے لے کران کے بالغ ہونے کے بعد بھی والدین ان سے اپنی محبت کا اظہار کرتے ہیں، اولاد سے محبت کا ایسا انوکھا واقعہ جس نے والد کو کار فروخت کرنے پر مجبور کردیا۔ذرائع ابلاغ کے مطابق برطانوی بچے کی تفریح والد کو مہنگی پڑی مگر والد نے اپنی محبت کا ثبوت دیتے رقم اداکی،موبائل گیم کھیلنے کے دوران آن لائن خریداری پر7 سال کے بچے نے پونے 3 لاکھ پاکستانی روپے خرچ کردیے،بل کی ادائیگی کیلیے والد ڈاکٹر محمد مرتضیٰ کو اپنی گاڑی فروخت کرنا پڑگئی،برطانوی ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے نے ایک گھنٹے فری گیم کھیلا تھا۔ ہرباپ کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کی اولاد کو وہ تمام خوشیاں ملیں جس کی انہیں تمنا ہے اور ان کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے وہ اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لاتے ہوئے انہیں وہ خوشیاں فراہم کرنے کی تگ و دو میں لگا رہتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…