بدھ‬‮ ، 22 اپریل‬‮ 2026 

فراڈ میں ملوث بی فوریو گروپ نے عوام کو 200 ارب روپے کا چونا لگا دیا

datetime 27  جون‬‮  2021 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سکیورٹیز اینڈ ایکس چینج کمیشن آف پاکستان نے کمپنیز ایکٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر پرامڈ اسکیمیں چلانے اور عوام سے غیر قانونی طور پررقوم اکٹھا کرنے کے خلاف قانونی کارروائی مکمل کرتے ہوئے B4U گروپ آف کمپنیز اور اس کے ڈائریکٹرز کے خلاف کارروائی مکمل کرتے ہوئے کمپنیوں اور ڈائریکٹرز پر بھاری جرمانہ عائد کر دیا ہے،

روزنامہ سما میں وحید جنجوعہ کی خبر کے مطابق بی فار یو گروپ 18 کمپنیوں پر مشتمل ہے جو کہ ایس ای سی پی سے رجسٹر ہیں جبکہ اس گروپ کے ساتھ پانچ غیر رجسٹر ادارے بھی منسلک ہیں،گروپ کی تمام 18 کمپنیاں گزشتہ دو سال میں رجسٹر ہوئیں اس گروپ کا مالک سیف الرحمن نامی شخص اور خاندان کے قریبی افراد شامل ہیں،ایس ای سی پی نے قانون کے مطابق کارروائی کرتے ہوئے B4U گروپ کی کمپنیوں کے تمام ڈائریکٹروں کو اگلے پانچ سال کے لئے کسی بھی کمپنی میں ڈائریکٹربننے کے لئے نااہل کر دیا ہے اور کمپنیوں کے ہر ایک سپانسر پر 10 کروڑ روپے جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ علاوہ ازیں ان کمپنیوں کے ڈائریکٹر کمپنیز ایکٹ کے تحت نئی کمپنی رجسٹر کروانے کے اہل نہیں ہوں گے۔ ایس ای سی پی نے گروپ کی تمام 18 کمپنیوں کو قانون کے مطابق بند کرنے (winding up ) کی کارروائی شروع کی جائے گی جبکہ کہ ہر ایک کمپنی پر 20 کروڑ روپے جرمانہ عائد کیا گیا ہے، بی فار یو گروپ کی تمام کمپنیوں اور ڈائریکٹرز پرمجموعی طور پر4 ارب روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا ہے، غیر قانونی طور پر عوام سے غیر قانونی طور

پر سرمایہ کاری کے نام سے رقوم اکٹھا کرنے اور پیرامڈ سکیموں وغیرہ جیسی غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف عوام الناس کے مفادات کا تحفظ ایس ای سی پی کی اولین ترجیح ہے۔ ایس ای سی پی کی جانب سے ایسی تمام کمپنیوں کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کے ساتھ ساتھ،عوام کو وقتاً فوقتاً انتباہ کیا جاتا رہا ہے کہ ایسی غیر قانونی اسکیموں سے گمراہ نہ ہو ں،واضح رہے کہ کسی بھی کمپنی کی ایس ای سی پی کے ساتھ محض رجسٹریشن سے کسی کمپنی کو شہریوں سے سرمایہ کاری کے لئے رقوم اکٹھی کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہوتا، واضح رہے کہ بنکوں ، قومی بچت کی اسکیموں یا ایس ای سی پی سے لائسنس یافتہ نان بینکنگ فنانشل انسٹی ٹیوشنز کے علاوہ کسی بھی کمپنی کی جانب سے سرمایہ کاری کے لئے رقوم اکٹھی کرنا کمپنیز ایکٹ کی دفعہ 84 کے تحت غیرقانونی سرگرمی ہے،یاد رہے کہ صرف متعلقہ ریگولیٹری اتھارٹی سے باقاعدہ لائسنس یافتہ اور منظور شدہ ریگولیٹری فریم ورک کے تحت کام کرنے والی کمپنیاں جیسے کہ میوچل فنڈز، سٹاک مارکیٹ بروکرز،انشورنس،کار فنانسنگ ، پنشن اسکیمیں،لیزینگ اور ہاوس فنانسنگ سمیت دیگر مالیاتی خدمات فراہم کرنے والی کمپنیاں ہی عوام سے سرمایہ کاری یا دیگرمقاصد کے لئے رقوم وصول کر سکتی ہیں،سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کے مطابق بی فور یو گروپ کی جانب سے ٹرانپسورٹ کمپنی کو بطور فرنٹ کمپنی استعمال کیا گیا، گروپ نے عوام سے سرمایہ کاری کے نام پر کم و بیش 150 سے 200 ارب روپے کا غیرقانونی سرمایہ اکٹھا کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



گریٹ گیم(تیسرا حصہ)


ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…

گریٹ گیم(دوسرا حصہ)

حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت حواء علیہ السلام…

گریٹ گیم

یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…