بدھ‬‮ ، 07 اکتوبر‬‮ 2026 

امریکی صدر نےڈو مور کہنا ہے تو فون نہ کریں، حکومت کا دوٹوک اعلان

datetime 27  جون‬‮  2021 |

اسلام آباد (آن لائن ) وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف نے کہا ہے کہ امریکی صدر اگر بات نہیں کرنا چاہتے تو نہ کریں لیکن اگر انہوں نے ڈومور ہی کہنا ہے تو بہتر ہے فون نہ ہی کریں۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ

ہم امریکا کے ساتھ تعلقات خراب کرنا نہیں چاہتے بلکہ ہم چاہتے ہیں کہ امریکہ کے ساتھ مثبت طریقے سے بات ہو، جس میں پاکستان سمیت خطے کا فائدہ ہو۔معید یوسف نے کہا کہ ہم وہی کریں گے جو پاکستان کے مفاد میں ہوگا، جو مفاد میں نہیں ہوگا وہ نہیں کریں گے۔ اس سے پہلے بھی مشیر برائے قومی سلامتی کہہ چکے ہیں کہ امریکی صدرجوبائیڈن اگر وزیراعظم عمران خان سے بات نہیں کرنا چاہتے تو نہ کریں یہاں بائیڈن کا کوئی انتظار نہیں کررہا ، امریکہ سے تجارت سمیت دوطرفہ تعلقات پر بات ہوگی لیکن یہ بات چیت صرف افغانستان تک محدود نہیں ہونی چاہیئے اور اگرصرف الزامات لگانے ہیں اور اڈوں کی بات ہی کرنی ہے تو وقت ضائع نہ کریں، گڈ لک بائیڈن ! ڈاکٹر معید یوسف نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کا شکار رہا ہے، تمام سرحدوں سے اس کے خلاف منصوبہ بندی، حمایت اور اسپانسر پر مبنی دہشت گردی مسلط کی گئی جو بدقسمتی سے آج بھی ایک حقیقت ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…