جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

بعض قوتیں چاہتی ہیں کہ پاکستان کے سر پر تلوار لٹکتی رہے، شاہ محمود قریشی نے ایٹمی پروگرام بارے اہم بات کر دی

datetime 26  جون‬‮  2021
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد ( آن لائن ) وزیر خارجہ شاہ محمود نے کہا ہے کہ پاکستان کی ایٹمی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی، پاکستان چاہتا ہے دنیا جوہری ہتھیاروں سے پاک ہو،وزیر خارجہ نے کشمیر پر مودی کی اے پی سی کو ناٹک قرار دیتے ہوئے کہا اس نشست کا حاصل وصول کچھ نہیں، کشمیری آج بھی حق خود ارادیت مانگ رہے ہیں، نئی دہلی

میں کل کی نشست ناٹک تھا، جس میں کشمیری قیادت کو مدعو ہی نہیں کیا گیا۔اسلام آباد میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے لیگی قیادت کی جانب سے وزیراعظم عمران خان پر ایٹمی پروگرام رول بیک کرنے کے الزام سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ ، لیگی قیادت اور دیگر اپوزیشن کی جانب سے وزیراعظم عمران خان پر لگائے جانے والے الزامات بے بنیاد ہیں،پاکستان اپنے تحفظ اور ایٹمی پروگرام کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ وزیر خارجہ نے کہا مقبوضہ کشمیر میںآ بادی کا تناسب تبدیل کرنے کا معاملہ ہر فورم پر اٹھایا، مودی نے کل کی نشست میں کشمیر کی دہلی سے دوری کا بھی اعتراف کیا، ماحول کے نارمل حالات میں لوٹ ا?نے کا تاثر یک سر مسترد ہوگیا، پچھلے 2 سال میں کشمیر پر ظلم سے بھارت کی ساکھ متاثر ہوئی۔شاہ محمود کا کہنا تھا نریندر مودی کی شخصیت پر بھی سوالات اٹھے ہیں، کل کی نشست میں 5 اگست کے اقدامات کو مسترد کیا گیا، مودی نے اعتراف کیا کہ 5 اگست کے اقدامات سے کشمیری ناراض ہیں، کل کی نشست سے واضح ہوگیا کہ بھارتی حکومت پر کشمیر کو اعتماد نہیں۔وزیر خارجہ نے کشمیر کے سلسلے میں ایک اہم نکتے کی طرف توجہ مبذول کروائی، انھوں نے کہا بھارتی مظالم کے نتیجے میں کشمیر میں باغ اجڑ گئے ہیں، اور شعبہ سیاحت تباہ ہو گیا

ہے، کشمیریوں کو شعبہ سیاحت سے ا?نے والی ا?مدن بھی رک گئی ہے، مقبوضہ کشمیر میں 50 فی صد سے زائد انڈسٹری بند پڑی ہے، ماورائے عدالت قتل کا سلسلہ الگ سے جاری ہے۔انھوں نے کہا کل نشست میں حریت رہنماو?ں کی رہائی، اور انسانی حقوق کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا، کشمیری ا?ج بھی اپنی شناخت کی تلاش میں ہیں، وہ تحفظ چاہتے ہیں، ہم نے یو این ، سلامتی کونسل، جنیوا کنونشن سمیت ہر جگہ ڈیموگرافی تبدیلی کا مسئلہ اٹھایا، نہ صرف

کشمیر بلکہ عالمی طاقتوں نے بھی 5 اگست کے اقدامات کو مسترد کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بعض قوتیں یہ چاہتی ہیں کہ پاکستان کے سر پر تلوار لٹکتی رہے۔ ہم نے جو بھی اقدامات کیے وہ اپنے مفاد کو پیش نظر رکھتے ہوئے کیے ہیں۔ہمارا مفاد کیا ہے ؟ہمار امفاد یہ ہے کہ منی لانڈرنگ نہیں ہونی چاہئیے۔پاکستان کی منشاء یہ ہے کہ ہم نے دہشتگردی کی مالی معاونت کا تدراک کرنا ہے، جوبات پاکستان کے مفاد میں ہے وہ ہم کرتے رہیں گے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…